Role Of Parents In Proper Upbringing Of Children by Irfan Shahid| بچوں کی تعلیم و تربیت اور والدین کی ذمہ داریاں

Image

بچوں کی تعلیم و تربیت اور والدین کی ذمہ داریاں

 

پروفیسر عرفان شاہد

16 فروری، 2013

اسلام  ایک مکمل  نظام زندگی  ہے، انسانی زندگی سے تعلق رکھنے والے تمام ہی  امور میں وہ شاہ کلید کی حیثیت  رکھتا ہے ۔ خواہ وہ تعلیمی  ہوں یا معاشی یا معاشرتی ۔ اللہ کے نزدیک ساری انسانیت کے لیے  واحد مستند  دین یہی ہے۔ اسلام کی نظر میں علم فی الواقع معرفت خداوندی کا نام ہے ۔ وہ علم ناقص ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ  تک نہ پہنچا سکے اور توحید کے حقیقی تصور سے دور کھے ۔ اسی بنیادی  تصور کو سامنے رکھ کر اسلام  نے علوم و فنون  کی آبیاری  کی ہے اور اپنے ماننے والوں میں خود شناسی اور خداشناسی کے داعیات پیدا کیے ہیں۔ اسلام علم کے ساتھ  عمل کو بھی لازم قرار دیتا ہے ۔ وہ علم  مکمل نہیں ہوسکتا جو عمل سے خالی ہو۔ علم کا حصول ذہنی تعیش  او رمعلومات  میں اضافے کے لیے صحیح نہیں ہے  جیسا کہ آج کل رائج ہے۔ علم عمل  کو چاہتا ہے ۔ اگر عمل نہ ہوتو علم رخصت ہوجاتا ہے اور اپنی قدر و قیمت کھو دیتا ہے ۔ وہی  علم کار گر اور مفید ہے جو عمل پر ابھارے ، صاحب علم کو فائدہ پہنچائے اور اس کے ذریعے سےپورا معاشرہ فیضیاب ہو۔ اسلام کے اس اساسی تصور کو  سامنے رکھ کر جب ہم غور کرتے ہیں تو یہ بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ فر د کاارتقاء،  معاشرے  کی تعمیر اور ریاست کی تشکیل میں علم کا یہ اعلیٰ  تصور ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔ انسان کی معاشرت ، معیشت ، سیاست، تہذیب و تمدن  ، ثقافت اور صنعت  ، غرض زندگی کے ہر شعبہ  میں علوم و فنون  کو ترقی دینے کے لیے علم کی زبردست اہمت رہی  ہے ۔ چنانچہ  مسلمانوں کی چودہ سو سالہ تاریخ  یہ بتاتی ہے کہ انہوں نے علم و فن کے میدان میں جو ترقی کی ہے، اسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا اور دنیا کے تمام ہی علمی حلقوں  کے لیے وہ سند  کی حیثیت  رکھتی ہے ۔ علم  ریاضی ہو یا علم طب، علم تاریخ ہو یا علم فلکیات اور دیگر علوم۔ ان سب علوم میں اس طرح ترقی ہوئی کہ آج بھی ماہرین ان ابتدائی حاملین علوم و فنون کے نقش  قدم پر چلنے کے لیے اپنے آپ کو مجبور پاتے ہیں ۔ البیر ونی ہو یا غزالی، ابن رشد ہو یا ابن  خلدون یا دیگر علماء سلف۔ ان کے علوم  و فنون کی کتب آج بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔ بچوں کی تعلیم و تربیت ایک دلچسپ موضوع ہے جس سے دنیا کے ہر شخص کو دلچسپی  ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ ایک ایسا مرحلہ ہے جس سے دنیا کے  ہر شخص کو لازماً گزر نا پڑتا ہے۔

تعلیم کے معنی  ومفہوم : تعلیم کے لغوی معنی ہیں کسی کو کچھ بتانا  ، سکھانا۔ موجودہ دور کے ایک معلم، تعلیم کا مفہوم  بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : بعض  لوگ  غلط فہمی  میں تعلیم کو تدریس  کا ہم معنی سمجھ لیتے ہیں یعنی  طلبہ کو بعض مضامین یا کتب کادر س دے دینا یا انہیں لکھنا  پڑھنا اور حساب وغیرہ  سکھا دینا ۔ حالانکہ  یہ بہت ہی جامع لفظ ہے۔ اس کے مفہوم ہیں تدریس  کے ساتھ ساتھ تدریب (فنون میں مہارت پیدا  کرنا) تادیب (ادب سکھانا ) اور تربیت  (شخصیت  کے مختلف  پہلوؤں  کی ہم آہنگ نشو ونما کرنا) بھی شامل ہے۔ تعلیم  کے اس وسیع  مفہوم  سے یہ بات حتمی  طور پرواضح  ہوجاتی ہے کہ بچوں کی تعلیم  و تربیت پر بہت سارے عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔ (1) والدین ، گھر(2) مدرسہ  (3) ماحول (4) معاشرہ: یہاں پر زیر اثر بحت موضوع بچوں کی تربیت  میں والدین کا رول ہے، اس لیے ہم صرف اسی کاذکر کریں گے ۔ تعلیم و تربیت کی اولین اور اہم ترین جگہ والدین کی گود  ہوا کرتاہے۔ پیدائش  سے لے کر چار پانچ سال کی ساری  سر گرمیاں   ، ماں  کی گود سے لے کر گھر کی چہار دیواری تک محدود رہتی ہیں۔ اور یہی  دور ، تربیت کا سنہرا  دور ہوا کرتاہے۔ گھر کے افراد اور گھریلو ماحول کا جو اثر بچہ قبول کرتا ہے  وہ بہت دور رس اور انتہائی اہم ہوتا ہے۔ یہیں  وہ اٹھنا بیٹھنا ، چلنا، پھرنا، کھانا پینا، بات چیت کرنا ، سب کچھ سیکھتا ہے۔ یہیں سے حقیقی محبت و شفقت ، ہمدردی  و تعاون حال ہوتا ہے اور آسائش و ناز برداری ہوتی  ہے جو اس کی تربیت   و پرورش  کے لیے نہایت  ضروری ہے۔ اس دور میں بچے کا ذہن ایک کورے کاغذ کے مانند  ہوتا ہے والدین جو چاہیں اس پر تحریر  کرسکتے ہیں اور جیسا کہ قرآن  میں آیا ہے کہ : فِطْرَتَ اللّہِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْھَا ( الروم) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایابھی  ہے کہ ‘‘ ہر بچہ فطرت پر پیدا  ہوتا ہے۔ پھر اس کے والدین اس کو یہودی  یا نصرانی یا مجوسی بنادیتے ہیں۔

امام غزالی اس موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:

بچہ والدین کےپاس امانت ہے، اس کا پاکیزہ دل ایک قیمتی جوہر ہے ۔ اگر بچہ کو بھلا ئی کا عاری بنایا جائے اور اچھی  تعلیم دی جائے تو بچہ  اسی نہج پر پروان چڑھتا ہے اور دنیا وآخرت میں سعادت  حاصل کرتا ہے ۔ اگر بچہ کو بری باتوں کا عادی بنایا جائے ، اس کی تربیت سے غفلت برتی جائے اور اسے جانور کی طرح آزاد چھوڑ دیا جائے تو بد بختی و بربادی اس کا مقد  ر بن جاتی ہے۔ ایک دفعہ  کا ذکر ہے کہ شیخ  عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے والد محترم جناب ادھم  رحمۃ اللہ علیہ  کے خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں اپنے بچے کی تربیت  اسلامی نہج پر کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے کچھ  نصیحت  کردیجئے ۔ شیخ صاحب نے اس شخص سے پوچھا کہ آپ کے بچے کی کیا عمر ہے ۔ اس شخص نے جواب دیا کہ میرا بچہ ایک مہینہ کا ہے۔ شیخ  صاحب نے اس شخص سے کہا کہ آپ بہت دیر سے آئے ۔ دوبارہ پھر اس شخص نے تعجب بھرے انداز میں وہی جواب دہرایا کہ اس کا بچہ ایک  مہینہ کا ہے ۔ شیخ صاحب نے جواب دیا جی ہاں میں نے سنا پھر بھی آپ بہت تاخیر سے آئے ۔ دوبارہ  اس شخص نے شیخ صاحب سے سوال کیا کہ پھر  مجھے اس کے لیے کب آنا چاہیے تھا؟ شیخ صاحب نے جواب دیا کہ آپ کو اس وقت آنا چاہیے تھا جب آپ اپنی شادی  کرنے جارہے تھے ۔ کیونکہ  اسلامی نہج پر بچوں کی تربیت کے  لیے ایک دیندار ماں کی ضرورت ہوتی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان کو چار چیزوں کی بنیاد  ایک عورت سے شادی کرنا چاہیے: حسب و نسب ، مال و دولت ، حسن  و جمال اور دیندار ی لیکن تم دیندار  عورت کا انتخاب کرو کیونکہ یہ پائیدار  ہے۔ چنانچہ  ایک مرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ پہلے خود کو دیندار  بنا ئے پھر اپنے نکاح کے لیے ایک دیندار عورت کا انتخاب کرے کیونکہ دیندار عورت بچوں کی تربیت کے لیے بے حد معاون  اور مدد گار ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیندار صالح  عورت کو دنیا کی قیمتی شئے سے تعبیر کیا ہے۔  ان ہدایات کے عدم توجہی کے صورت نتیجہ  ا س شعر کے مانند ہوجائے گا:

قدم ہیں تو کنعان کے رہ گزر پر

سفینہ  مگر نوح کا مانگتے ہو

غرض یہ کہ بچوں کے  بناؤ بگاڑ پر سب سے  زیادہ اثر انداز والد ین ہی  ہوتے ہیں۔ کیونکہ بچوں کی شخصیت میں وہی رنگ و روغن بھرتے ہیں۔ شکل و صورت کی طرح ان کے اخلاق و عادات ، خیالات و معتقدات ، جذبات و میلانات پر والدین ہی کا پرتو پڑتا ہے۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کی تربیت اچھے ڈھنگ سے کرنے کی کوشش کریں اور یہ ان کی اہم ذمہ داری ہے کیونکہ یہ بچے اللہ تعالیٰ کی جانب سے امانت ہیں۔ ان کی صحیح  تعلیم و تربیت  والدین  پر لازم ہے اور قیامت کے دن ہر  والدین سے اس امانت کے متعلق سوال و جواب ہوگا کہ آپ نے کس حد تک اپنے بچوں کو تعلیم سے آراستہ کیا؟  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان کو تین چیزوں کا ثواب ہمیشہ ملتا رہتا ہے (1) اولاد صالح (2) یا کوئی ایسا  شاگرد چھوڑا ہو جو اس کی تعلیمات کو لوگوں کے درمیان عام کر رہا ہو (3) یا کوئی ایسا کام ہو جس سے اس کے بعد لوگ مستفید ہورہے ہوں۔

بچوں کی تعلیم و تربیت کے متعلق حضرت علی رضی اللہ عنہ کا سنہرا اصول: علم و عرفان کی دنیا میں  حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بڑا اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ اللہ  کے رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو علم کے دروازے سے تعبیر کیا ہے۔ آپ  بچوں کی تربیت کے تعلق سے بڑا جامع بیان دیا اور  بچوں کی تربیت  کو عمر کے لحاظ سے تین مرحلوں  میں تقسیم  کردیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ جب بچہ تین سے سات سال کے درمیان ہوتو اس کے ساتھ  والدین کو کھیلنا چاہئے ۔(1) پہلا مرحلہ تین سے سات سال (2) دوسرا مرحلہ سات سے چودہ سال (3) چودہ  سال  سے بائیس سال ۔ آپ نے فرمایا جب بچہ پہلے مرحلے میں ہو تو والدین کو اس کے ساتھ کھیلنا  چاہئے اور اس سے پیار ی پیاری باتیں کرنا چاہئے ۔ اسے اسلام کے  احکامات سکھانا چاہئے  ۔ اوربچہ  تیسرے  اور آخری مرحلے میں داخل ہوجائے تو اس سے بہت دوستانہ تعلق  رکھنا چاہئے ،کیونکہ یہ مرحلہ بہت ہی نازک ہوتا ہے، بچے  کے اندر بے انتہا طاقت ہوتی ہے لیکن سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت طاقت کےمقابلہ میں تھوڑی کم ہوتی ہے ، مختصر یہ کہ یہ مرحلہ جوش کا ہوتا ہے۔

تربیت کے تعلق سے والدین کی ذمہ داریاں: (1) پیدا ہونے کے بعد بچہ کو صاف ستھرا کر کے اس کے کانوں  میں اذان کہیں  اور اس کے لیے اچھا نام تجویز کریں (2) حسب استطاعت ساتویں  دن عقیقہ کریں (3) حلال اور پاک روزی سےبچے کی پرورش کریں (4) پیار او  ر محبت سے آداب و سلیقے سکھائیں (5) پانچ سال کا ہوجائے تو صاحب کردار معلمین کے حوالے کر کے بتدریج علم و ہنر سکھائیں (6) سات سال کا ہوجائے تو نماز کی ترغیب دلائیں (7)دسویں سال اس کا بستر الگ کردیں (8) بارہویں  سال سے اس کی حرکات و سکنات پر پوری نظر رکھیں (9) غلطیوں اورکوتاہیوں کے صحیح  اسباب کا پتہ لگا کر ازالے کی فکر کریں (10) ان کی عزت نفس کا بھر پور لحاظ  رکھیں اور بالغ ہونے پر شادی میں جلدی کریں۔

تربیت کے تعلق سے والدین کو چند ہدایات: (1) بچوں کے سامنے قابل تقلید  نمون ہ پیش کیجئے (2)  بچوں سے کبھی نہ جھوٹی بات کہیے  اور نہ جھوٹا وعدہ کیجئے ۔ یہ گناہ ہے۔ ایسا  کرنے سے آپ پر اعتماد اُٹھ جائے گا (3) بچوں کے سامنے آپس میں تو تو میں میں نہ  کیجئے اور نہ ہی ان سے ایک دوسرے کی شکایت کیجئے ۔ ایسا کرنے سے ان کے اندر بگاڑ کے جراثیم پیدا ہوجائیں گے (4) نادان سمجھ کر ان کے سامنے خصوصی ازدواجی تعلقات کامظاہرہ ہر گز نہ کیجئے  ۔ اولاً تو یہ بے شرمی کی بات ہے۔ دوسرے  اس سےآپ کا رعب اور وقار احترام ختم ہوجائے گا نیز             قتل از وقت جنسی بحران کے شکار ہوجائیں گے اور غلط  کاریوں میں مبتلا ہوجائیں گے (5) اپنے طرز عمل سے یہ محسوس کر ا دیجئے کہ  آپ دونوں ایک دوسرے کے بہت ہی خیر خواہ ہیں (6) بچوں میں رقابت نہ پیدا  ہونے دیجئے ورنہ یہ چیز آگے بڑھ کر بہت سارے خطروں کی موجبت بن سکتی ہے ( 7) اس کے ساتھیوں کے سامنے کبھی سزا نہ دیجئے  ورنہ آپ کا بچہ باغی ہوجائے گا (8) کوئی کمزوری سرزد ہوجائے اور اس کے نتیجے میں اسے سزا بھی ملی ہو، تو اسےبار بار ہر گز نہ دھرائیں ، ورنہ دوسرے لوگ کو طعنہ دینے کاموقع مل جائے گا اور آپ کا یہ عمل اس کو آپ سے دور کردے گا (9) کوئی حکم دینے سے پہلے ان کی ذہنی  کیفیت  کا اندازہ لگا لیجئے تاکہ نافرمانی کا اندیشہ نہ ہو (10) ان تمام کاموں کے ساتھ ساتھ قرآن و حدیث کے مطالعے  کی ترغیب دلائیے کیونکہ یہ دونوں چیزیں انسان کو گمراہ ہونےسے بچا تی ہیں اور یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت ہے۔

موجودہ تعلیم کا مقصد : موجودہ دور میں تعلیم کےمفہوم کی طرح تعلیم کے مقصد  میں بھی شدید اختلاف پایا جاتاہ ے ۔ ماں باپ  اپنے بچوں کو عموماً اس غرض سے تعلیم  دلاتے ہیں کہ وہ پڑھ لکھ کر کمانے کھانے کے قابل ہوجائیں ۔ گویا  کہ وہ تعلیم کو صرف حصول  معاش کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ تعلیم برائے معاش  ان کی بنیادی مقصد ہوتا ہے۔ اگر چہ زبان سے اس کا  اعتراف بہت کم ہی لوگ کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں اکثریت انہیں  لوگوں کی ہے جو تعلیم کو حصول معاش کا ذریعہ سمجھتے  ہیں ۔ آپ  اس کا مشاہدہ  اپنے موجود ہ معاشرے میں کرسکتے ہیں ۔ تعلیم کا  یہ مقصد بالکل غلط ہے۔ اگر معاش کا دارو مدار  صرف علم پر ہوتا تو بہت سارے جانور جو عقل  سے کورے ہیں ، مرجاتے ۔ اسی مفہوم  کی عکاسی کرتے ہوئے عربی ادب کا ایک شاعر لکھتا ہے کہ :

وَلَوْ کَانَتِ الْاُ رُزَاقُ تَجُرِیْ عَلیٰ الُحِجَا

ھَلَکُنَ اِذا مِنُ جَھُلِھنَّ البَھَا یمُ

ترجمہ : ‘‘اگر رزق  کی تقسیم علم و دانائی کی بنیاد پر ہوتی تو یہ جانور جو علم سے آشنا ہیں، سب کے سب ہلاک ہوجاتے ’’۔

بلاشبہ کھانا کمانا انسان کی بنیادی ضرورت ہے اور بہر حال اس بات کی کما حقہّ ، فکر ہونی چاہیے کہ بچہ پڑھ لکھ کر اپنے پیروں پر کھڑا ہوسکے۔ لیکن انسانیت کا تقاضہ  بس یہی تو نہیں ہے کہ تنہا اسی کو تعلیم کا بنیادی مقصد قرار دے ۔ ایسا کرنے سے بچہ  معاشی  حیوان تو ضرور بن جائے گا لیکن انسان ہر گز نہیں بن سکتا ۔ کیونکہ جس تعلیم کو اللہ  تعالیٰ  نے معرفت ذات اور معرفت خداوندی کا ذریعہ  بنایا تھا، اس تعلیم کو حصول معاش کا ذریعہ  بنالیا گیا ۔ اور دوسری بات یہ کہ مسلمان کے نزدیک تو جان سے زیادہ  عزیز ہوتاہے ۔ ایسی  صورت میں معاش ہی کو مقصود زندگی  ٹھہراکر تعلیم و تربیت کے نظام کو اس کے ارد گرد  گھما نا دراصل بچے پر احسان نہیں بلکہ صریحی ظلم ہے:

تعلیم کی اہمیت قرآن و حدیث کے تناظر میں : ہماری  یہ دنیا بہت ساری  چیزوں کا مجموعہ ہے اور اس کی ہر چیز اپنے رنگ و بو اور مزاج کی بنیاد پر پہچانی جاتی ہے۔  سورج اپنی  روشنی کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے ۔ رات اپنی تاریکی کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے۔ پھول اپنی خوشبو کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ٹھیک اسی طرح انسان کی بھی ایک پہچان ہے ۔ وہ پہچان کیا ہے؟ وہ پہچان علم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تخلیق  آدم کے وقت ہی انسان کا رشتہ علم سے جوڑ دیا اور جس وقت نبی کو فریضہ نبوت سے سرفراز کیا گیا تو آغاز ہی میں تعلیم و تعلم کی تلقین و ہدایت کی گئی اور اسی طرح سورہ اقرأ کا نزول ہوا:

اِقّرا بِا سُمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ  خَلَقَ الْاِ نْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اِقّرا وَرَبُّکَ الْاَ کُرَمْ الَّذِیْ عَلَّمَ بِا لقَلَمَ عَلَّمَ الاِ نْسَانَ مَا لَمُ یَعْلَمُ ‘‘ اے نبی ! پڑھو اپنے رب کے نام کے ساتھ  جس نے پیدا کیا ، جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی۔ پڑھو  ، اور تمہارا رب بڑا کریم ہےجس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا ۔ انسان کو وہ علم دیا جسے وہ جانتا نہ تھا۔’’

ان آیات میں پہلی وحی سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہمیت ، اس کا مقام ، تعلیم و تعلم کی ضرورت ذریعہ تعلیم او رلکھنے پڑھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انسان بالکل بے علم تھا، جو علم دنیا میں پھیلا ہوا ہے، اللہ کی دین اور اس کی نعمت ہے۔ اسی  طرح  قرآن  او رحدیث بھی علم کا بہت بڑا خزانہ اور اللہ کی بہت بڑی نعمت ہیں :

علم و ہنر سے پاتی ہے انسانیت عروج

انسان زندہ لاش ہے تعلیم کے بغیر

مختصر یہ کہ ہر والدین کو اپنے بچوں کی تربیت کے لیے مندرجہ بالا باتوں کا خیال رکھنا چاہیے ۔ اس کی عدم توجہی کی صورت میں بچہ ہی نہیں بلکہ آپ کی آنے والی پوری نسل  تباہ و برباد ہوجائے گی۔ اسلام میں شادی بیاہ محض تمطع کے لیے  نہیں بلکہ یہ ایک عبادت ہے۔ اور بچے اللہ تعالیٰ کے جانب سے والدین کے لیے امانت ہیں ۔ اور امانت میں خیانت  کرنے والا بہت بڑا مجرم ہوتاہے ۔ ہر صاحبان اولاد کو قیامت کے دن  اس کے متعلق جواب دینا ہوگا ۔ کیونکہ اپنے اپنے بچے کا راعی ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں  سے ہر ذمہ  دار شخص  اللہ کے یہاں اپنے ماتحتوں کے متعلق جواب دہ ہوگا ۔بچے بھی ایک طرح  سے والدین کے ماتحت  میں آتے ہیں ۔ لہٰذا ہر والدین کو اپنے بچوں کے متعلق  اللہ کے حضور جواب دہ ہونا پڑے گا۔

16 فروری، 2013  بشکریہ : روز نامہ ہندوستان ایکسپریس ، نئی دہلی

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/prof-irfan-shahid–پروفیسر-عرفان-شاہد/role-of-parents-in-proper-upbringing-of-children—بچوں-کی-تعلیم-و-تربیت-اور-والدین-کی-ذمہ-داریاں/d/10478

EMAIL: shahid_irfan2002@yahoo.com
Contact +91 8080997775
+91 8655084787
 

Islamic banking in India: challenges and scope by IRFAN SHAHID |اسلامی بینک : رکاوٹیں، اندیشے اور امکانات

Image

اسلامی بینک : رکاوٹیں، اندیشے اور امکانات

پروفیسر عرفان شاہد

 

ہندوستان میں اسلامی بینک کی ناکامی جیسے سوالات ہی غلط ہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں آج تک منظّم طور پر غیر سودی اسلامی بینک قائم ہی نہیں ہوئے ۔ لوگ دراصل جیسے اسلامی بینک تصور کرتے ہیں وہ غیر سودی سرمایہ کاری کے خدمات انجام دینے والے  ادارے ہیں۔ اگر ہم علمی یا نظریاتی  طور پر ہندوستان کا جائزہ لیں تو  ہمیں اسلامی سرمایہ کاری  تمویل کے بہت سارے کام ملتے ہیں ۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ دنیا میں اسلامی سرمایہ  کاری کے اداروں  کے قیام کی سب سے پہلی کوشش ہندوستان میں ہوئی ۔ چھوٹے و درمیانی  سطح پر کم و بیش  دوسو کے قریب غیر سودی مالیاتی  ادارے  قائم ہوئے ہیں اور ان سے عوام کو بے شمار فائدے ہوئے ہیں ۔ خصوصاً انیسویں صدی کے اواخر میں چند غیر  سودی مالیاتی ادارے ابھر کے آئے ۔ یہ ادارے  قانون اور شناختی طور سے بینک تو نہیں  تھے لیکن بینک سے مماثلت رکھنے والے کچھ کام کرتے تھے ۔ شاید اسی وجہ سے یہ ادارے عوام کے درمیان اسلامی بینک کے نام سے جانے جاتے تھے ۔ حالانکہ اسلامی بینکنگ ایک مکمل  نظام زر ہے۔

ہندوستان میں اسلامی بینک نہ قائم ہونے کی کئی و جوہات ہیں  ۔ اس میں سب سے بنیادی  وجہ علم کی کمی اور سود کے خطرات سے نا واقفیت  ہے۔ قرآن  و حدیث  نے سود کی مذمت بہت ہی سخت اور دھمکی  آمیز  لہجہ  میں کی  ہے ۔ حدیث  کی نظر  میں سودی  کاروبار میں مبتلا  ہونے والے لوگ ایسے ہیں  جیسے انہوں نے اپنی ماں  کے ساتھ زنا کیا ہو۔قرآن کریم میں تقریباً سات جگہوں  پر سود کی مذمت کی گئی ہے، اور اللہ تعالیٰ  نے سودی  کاروبار کرنے والوں کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے ۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ عوام نے کبھی منظّم طور پر اس بات کی کوشش  ہی نہیں  کی کہ اسلامی بینک کا قیام ہو ورنہ لوگ مسلم پرسنل لا ء بورڈ کے قیام کے وقت اسلامی بینکنگ  کے قیام کی خواہش  کی جاتی ہو اور اس کے علاوہ مسلم عوام ووٹ دینے سے پہلے  سیاسی پارٹیوں  کے رہنماؤں سے مطالبہ کرتی کہ انہیں اسلامی بینک  بھی چاہئے ۔ یہ بات با لکل  واضح ہے کہ بغیر کوشش کئے کوئی چیز  نہ تو دنیا میں ملتی  ہے اور نہ ہی آخرت میں ملے  گی ۔ تیسری اہم  وجہ یہ ہے کہ  ( Indian Banking Law )ہندوستانی قوانین برائے زر اسلامی بینکنگ کے قیام کی اجازت نہیں دیتی  اور دے بھی  تو کیسے  جب اس کے خواہش مند ہی نہ ہوں۔ ایک ماں بھی اپنے بچے کو اس وقت تک دودھ نہیں پلاتی جب تک بچہ رونا شروع نہ کردے۔ اس کے  علاوہ  بھی ایک اہم بات واضح ہوئی ہے کہ جو لوگ ہندوستانی ادارہ  برائے مالیاتی امور میں کام کررہے ہیں وہ بہت ہی نازک مزاج ہیں وہ مروجہ  بینکنگ  کو چلاتے چلاتے  تھک جاتے ہیں تو اسلامی بینک ان کے کیسے سنبھلے  ۔ کیونکہ  اس میں بینکنگ کے علاوہ  اسلام کا بھی نام ہے۔ چوتھی اہم بات یہ ہے کہ اسلامی بینک کو چلانے  کیلئے کچھ خاص قسم  کی صلاحیت  اور قوت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس میں سب سے پہلے کام کرنے والا طبقہ  اسلامی طور پر تعلیم یافتہ ہو اور مطلوبہ فن میں ماہر ہو۔ دوسری اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کو چلانے والے ایماندار اور سچے ہوں ، اور اس میں تیسری خصوصیت  مالی قوت  ہے۔ گذشتہ  دہائی میں جو بھی ادارے اسلامی بینک  کے نام پر قائم ہوئے تھے وہ  سارے کے سارے ان مطلوبہ خصو صیات سےخالی تھے ۔ ایک دو ادارے ہی ایسے تھے جو بمشکل  ایک یاد و شرائط پر پورے اتر رہے ہونگے ۔

موجودہ زمانے میں غیر سودی نظام کی (Demand ) طلب میں مسلسل  اضافہ ہورہا ہے ۔ اور کیوں  نا ہو کیوں  کہ جب لوگ ایک نظام سے تھک  جاتے ہیں تو وہ دوسرے  نظام کی تلاش  میں لگ جاتے ہیں ۔ موجودہ معاشی  بحران  نے دنیا کی بڑی بڑی  معیشتوں کی چولیں  ہلادی  ہیں ۔ اب عالمی معیشت اس دلدل سے نکلنے  کے لئے بغلیں جھانک رہی ہیں۔ ان کے پاس کوئی متبادل نظام نہیں ہے جس سے اس نقصان کا تتمہ  کیا جاسکے ۔ یہ تو سودی نظام  ہے جس نے پوری انسانیت کو اپنی چنگل  میں جکڑ رکھا ہے۔ اس نظام میں دولت کابہاؤ ایک خاص  طبقہ کی جانب ہوتا ۔ اس نظام میں روپیہ  صرف مالدار وں کے درمیان ہی گردش کرتا رہتا ہے اورغریب طبقہ  دن بدن غریب ہی ہوتا چلا جاتا ۔ بینک  او رمالیاتی  ادارے انہی  لوگوں کو کار وباری قرض دیتے ہیں جو  پہلے ہی سے معاشی  طور پر مستحکم  ہیں۔ بینک  ہر گز ہر گز کسی غریب آدمی کو قرض نہیں دے گا خواہ وہ کتنا ہی  قابل  او ر ذہن   کیوں نہ ہو۔ سودی نظام  سے صرف سرمایہ کار حضرات ہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ بقیہ غریب لوگ جو تعداد میں امیروں سے زیادہ ہیں ہمیشہ مالی فائدوں سے محروم ہی رہتے ہیں ۔ اب لوگوں  کو یہ احساس ہونے لگا ہے کہ سودی نظام سے انسانیت کابھلا نہیں ہوسکتا ۔ چنانچہ  لوگ سودی نظام سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لئے  کوشش بھی کررہے ہیں  ان  لوگوں کو بھی  اس کا علم ہوگیا ہے کہ صرف اسلام کے پاس ہی اس کامتبادل موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں غیر  سودی نظام کی طلب میں اضافہ ہورہا ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ مسلم دنیا بھی اسلام کو ایک رول ماڈل کے طور پر پیش  کرنے میں غفلت  کا شکار رہی ہے۔ اب  ضرورت اس بات  کی ہے کہ لوگوں کو اسلام کے معاشی  تعلیمات سے واقف کرایا جائے ۔

جہاں  تک ہندوستان میں اسلامی بینک  کے امکانات کی بات  ہے تو بلا مبالغہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہندوستان میں اسلامی بینک کاری  کے تعلق  سےاس کے امکانات  کافی روشن ہیں۔ ہندوستان کی معیشت ایک ابھرتی ہوئی  معیشت  ہے اور ابھرتی ہوئی معیشت  میں نئے  منصوبے اور نظریات کو کافی اہمیت دی جاتی ہے۔ کیونکہ نئے  منصوبے اور جدید طریقہ کار کسی بھی ابھرتی  ہوئی معیشت  کو تیزی  سےابھارنے میں موثر رول ادا کرتے ہیں ۔ لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہندوستانی  معاشیات کچھ  تر دوکا شکار ہیں ۔ کچھ لوگوں کو یہ سمجھ میں  آگیا ہے کہ اسلامی بینکنگ  کے قیام سےمسلمانوں  کی معیشت  بہتر ہوجائے گی  جو انہیں منظور نہیں ہے۔ لیکن  وہ شاید  اس حقیقت  سے جی  چرارہے ہیں کہ یہ مسابقاتی دور ہے اور اس دور میں وہی لوگ کامیاب ہونگے جو  نئے طریقہ  کار اور جدید  منصوبوں کو اپنے کارو بار میں جگہ  دینگے ۔ اسلامی بینکنگ  تو ایک فطری طریقہ  کار پر مبنی بینک  کاری کا آلہ ہے جو جلد ہی  لوگوں کے سامنے افشا ہوا ہے ۔ اکیسویں  صدی کے اس معاشی دور میں  اسلامی بینکنگ  کونظر انداز کر کے آگے  نہیں بڑھا جاسکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی دنیا جو اسلام کی سخت مخالف  ہے لیکن آپ کو معاشی میدان  میں ممتاز رکھنے کے لئے اسلامی بینکنگ  کو اپنا رکھا ہے ۔ ہندوستان کا عالمی حریف چین  نے بھی اسلامی  بینکنگ  کو اپنے یہاں  جگہ دینی شروع  کردی ہے۔ اگر ہندوستان نے ا س پر توجہ نہیں دی  تو وہ معاشی دوڑ میں چین پر سبقت  حاصل نہیں کرسکے گا۔ اور دوسری بات  یہ ہے کہ ہندوستان ایک مکسڈ ( Mixed Economy ) اکانومی ہے لہٰذا یہاں  پر ہر طرح کی نظر  یہ بنکاری  کے قبولیت  کے امکانات ہیں۔

ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ غیر سودی اسلامی بینک میں سرمایہ  کاری کیسے کریں او رکہاں کرتے ہیں؟ ۔ ہم جانتے ہیں کہ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے ۔ اس میں زندگی کے ہر پہلو  سےمتعلق احکامات ہیں ۔ اسلام نے سرمایہ کاری  کے متعلق بھی کچھ  اصول وضع کئے ہیں ، جیسے مشارکتہ ، مضاربہ، اجار ۃ اور کفالہ  وغیرہ وغیرہ ۔ ان کی تفصیل  حدیث  اور فقہ کی کتابوں  میں موجود ہے۔ انہی  اصولوں و ضوابط کے تحت اسلامی بینک بہت سارے حلال مدت میں سرمایہ کاری  کرتی ہیں۔ جیسے ریئل اسٹیٹ ، آئل  مارکیٹ اور میٹل مارکیٹ  وغیرہ وغیرہ ۔ اور حاصل شدہ نفع کو اپنے شرکاء کے درمیان تقسیم کرتی او ر کچھ  اپنے بقا  کیلئے رکھتی ہیں ۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ اسلامی بینک نفع کیسے حاصل کرتی ہے ۔ ایک دو فیصد سروس چارج کیا ہے اسلامی بینک  اسے کیوں  لیتی  ہے کیا یہ سود نہیں ہے؟ اس کے جواب میں ہم سب سے پہلے یہ بات واضح ہوجانی چاہئے کہ اسلامی بینکنگ کا مقصد صرف نفع کمانا نہیں ہے بلکہ اس کا بنیادی مقصد ہے لوگوں  کو اسلامی طریقے سے تجارت کرنے میں آسانی پیدا کرنا تاکہ لوگ سودی کا روبار سے حتی الامکان  بچ سکیں۔ نفع ایک جزوی چیز ہے جو تجارت  کے نتیجہ  میں پیدا ہوتی ہے اور اس طرح سے جو  بھی نفع حاصل ہوتی ہے  ایک معاہدہ  کے تحت  اسے شرکاء میں تقسیم کر دیتی ہے ۔ رہی بات سروس چارج کی تو یہ بھی ایک معقول چیز ہے ۔ اسلامی بینک بحیثیت ایجنٹ جو خدمات پیش کرتی ہے اس پر لوگوں سے کچھ فیس  لیتی ہے اور یہ بالکل سود نہیں ہے۔

6 مارچ، 2013  بشکریہ : روز نامہ ہندوستان ایکسپریس ، نئی دہلی

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/prof,-irfan-shahid–پروفیسر-عرفان-شاہد/islamic-banking-in-india–challenges-and-scope–اسلامی-بینک—رکاوٹیں،-اندیشے-اور-امکانات/d/10722

EMAIL: shahid_irfan2002@yahoo.com
Contact +91 8080997775
+91 8655084787
 

IMPORTANCE OF TIME IN ISLAM BY IRFAN SHAHID | وقت کی بربادی! نوجوانوں کے لئے ایک لمحہ فکریہ

 

Image

وقت کی بربادی! نوجوانوں کے لئے ایک لمحہ فکریہ

پروفیسرعرفان شاہد 

  استاذ برائے معاشیات و بزنس اسٹڈیز

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ ان نعمتوں میں وقت بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ اس ا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ انسان مال و دولت کے ذریعہ سے دنیا کی ہر چیز خرید سکتا ہے لیکن وقت نہیں خریدسکتا ہے۔ اتنا قیمتی ہونے کے باوجود بھی اللہ تعالیٰ نے سارے انسانوں کو موقع دیا کہ وہ وقت سے فائدہ اُٹھائیں۔ مال و دولت اور بہت ساری دیگر نعمتیں سارے انسانوں کو نہیں میسر ہیں۔ لیکن وقت ہر انسان کے پاس ہے۔

اب یہ اس کے اوپر منحصر ہے کہ وہ اس نعمت سے کس قدر فائدہ اُٹھا رہا ہے۔ دنیاوی نظام میں کچھ بھی ہوتا رہے لیکن وقت اپنی رفتار سے چلتا رہتا ہے۔ دنیا کا کوئی بھی سائنسداں یہ نہیں کہہ سکتا کہ آج سورج ایک گھنٹہ لیٹ سے طلوع ہوا اور دو گھنٹہ بعد غروف ہوا۔ نظام میں گڑبڑی کی وجہ سے بہت ساری چیزیں متاثر ہوتی رہتی ہیں۔ مثلاً زلزلے کی وجہ سے زمین و مکان تباہ ہوجاتے ہیں، انسان مرجاتے ہیں۔ زیادہ بارش ہونے کی وجہ سے سیلاب آجاتا ہے، فصلیں تباہ ہوجاتی ہیں۔ آمد و رفت کے ذرائع بند ہوجاتے ہیں۔ مختصر یہ کہ ان تمام حادثات اور واقعات کی وجہ سے دنیا کی بہت ساری چیزیں متاثر ہوتی رہتی ہیں۔ لیکن وقت پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ وقت اپنے ہی رفتار سے چلتا رہتا ہے۔
انسان روپے پیسے کے متعلق حساب و کتاب رکھتا ہے۔ میزانیہ کی کمی و بیشی کی صورت میں حساب و کتاب پر نظرثانی کرتا ہے لیکن وقت جیسی قیمتی چیز کے متعلق بے خبر ہے۔
انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے نفس سے وقت کے متعلق محاسبہ کرے کہ اس نے دن بھر میں کیا کیا اچھے اور بُرے کام کیے ہیں۔ 
حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے ’’لوگوں اپنا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارا حساب لیا جائے، اور اپنے اعمال کو تولو قبل اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی میزان میں وزن کیے جائیں۔‘‘
حضرت عمرؓ کا معمول تھا کہ جب رات ہوجاتی تھی تو وہ اپنے قدموں پر کوڑا مارکر اپنے نفس سے پوچھتے کہ تم نے آج کیا عمل کیا؟ 
ایک مشہور تابعی میمونؒ بن مھران فرماتے ہیں: ’’ایک متّقی شخص کو اپنے نفس کا حساب جابر بادشاہ اور لالچی ساجھے دار سے زیادہ سخت طریقے سے کرتا ہے۔‘‘
حضرت حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ مومن اپنے نفس پر قوام ہے۔ وہ اللہ کی پکڑ کے خوف سے ہمیشہ اپنے نفس کا محاسبہ کرتا رہتا ہے اور جو لوگ اس دنیا میں روزانہ اپنا محاسبہ کرتے رہتے ہیں ان کا حساب قیامت کے دن ہلکا ہوگا۔ اس کے برخلاف جو لوگ اپنے نفس کا محاسبہ نہیں کرتے اور غفلت میں زندگی گزارتے رہے ان کا حساب قیامت کے دن بہت ہی سخت ہوگا۔
آج کل بہت سارے نوجوان بھائی بہن ہر وقت لہو و لعب میں مبتلا رہتے ہیں۔ فلم بینی، کرکٹ بینی، اور سگریٹ نوشی اُن کے زندگی کا مشغلہ بن گیا ہے۔ بے شمار دینی گھرانے کی مستورات بھی قرآن و حدیث کا مطالعہ چھوڑ کر بکواس اور فحش رسائل و جرائد کا مطالعہ کرتی رہتی ہیں۔ انٹرنیشنل فلم اکیڈمی کے مطابق ہندوستان میں 15 کروڑ سے لے کر 18 کروڑ نوجوان مرد و عورتیں روزانہ سنیما گھروں کا چکر کاٹتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بے شمار لہو و لعب ہیں جس میں نوجوان اپنا قیمتی وقت برباد کرتے رہتے ہیں۔
بلاشبہ وقت بہت قیمتی شئے ہے اس کے متعلق اللہ سبحانہ تعالیٰ قیامت کے دن ہر انسان سے سوال کرے گا۔ بالخصوص جوانی کے بارے میں پوچھے گا کہ میں نے یہ جوانی آپ کو دی تھی آپ نے اس کا کہاں استعمال کیا اور کیسے استعمال کیا۔ یہ قیامت کے بنیادی سوالوں میں سے ایک سوال ہے۔ بغیر اس کا جواب دیے ہوئے انسان اپنی جگہ سے ہٹ نہیں سکے گا۔ آج بہت سارے نوجوان اپنی پوری زندگی زنا اور منشیات کے نذر کردیتے ہیں۔ اور جب ان سے کوئی پوچھتا یا منع کرتا ہے تو کہتے ہیں کہ دیکھا جائے گا اللہ تعالیٰ غفورالرحیم ہے۔ ان لوگوں کا قیامت کے دن کیا حال ہوگا نہ قابل بیان ہے۔ قرآن نے ایسے لوگوں کو دردناک عذاب کی بشارت دی ہے اور شیطان کا ساتھی بھی ٹھہرایا ہے۔
ایک بہت بڑی خرافات جو نوجوانوں میں عام ہوتی چلی جارہی ہے وہ سالگرہ کا ہے۔ سالگرہ منانا دراصل یورپ اور امریکہ کا ایجاد ہے۔ لیکن بہت سارے نوجوان اسے عبادت سمجھ کر کرتے ہیں۔ افسوس یہ کتنی بڑی حماقت کی بات ہے کہ جب لوگ اپنی عمر کا ایک سال لہو و لعب اور عیاشی میں ضائع کردیتے ہیں تو وہ شاندار محفل کا اہتمام کرتے ہیں۔ انواع و اقسام کے لذیذ اور پرلطف کھانے کھاتے ہیں اور دوسروں کو بھی کھلاتے ہیں۔ بہت سارے گھرانوں میں رقص (ناچ اور گانے) اور حرام مشروبات کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ موم بتّیاں جلائی جاتی ہیں اور پھر اسے ڈرامائی انداز میں بجھایا بھی جاتا ہے نیز ایک دوسرے کو مبارکباد اور تحفے و تحائف بھی دیے جاتے ہیں۔
حالانکہ عقلمند انسان کے لیے ضروری یہ تھا کہ اس موقع کو غنیمت سمجھتا اور اپنی زندگی کے ایک سال گزر جانے پر غور سے کام لے جس طرح سے ایک ہوشمند تاجر تجارت کے ایک سال گذر جانے کے بعد اپنے رجسٹروں ، موجودات اور قرضوں کا جائزہ لیتا ہے اور یہ دیکھتا ہے کہ اس کی عمر کتنا حصہ اس کے حق میں گذرا اور کتنا اس کے خلاف، کیا فائدہ ہوا اور کیا نقصان اور پھر اس موقع پر اللہ رب العزت سے دُعا کرتا ہے کہ ’’اس کا حال اس کے ماضی سے بہتر ہو اور اس کا مستقبل اس کے حال سے بہتر ہو۔‘‘ اسی طرح ذی عقل انسان کے مناسب تو یہ تھا کہ وہ اپنی عمر سے ایک سال نکل جانے پر اپنے آپ کا محاسبہ کرتا۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے بارے میں بازپرس کرے گا۔ وہ اپنے آپ پر غم کرتا کہ اس نے اپنے عمر کا ایک حصہ گزار دیاگویا کہ اس کے عمر کی ایک بنیاد ڈھ گئی اور اس کی کتاب زندگی کا نیا باب شروع ہوگیا اور اپنی موت سے ایک سال قریب ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ سورۃ انبیاء میں فرماتا ہے کہ ’’ اقتربَ للناسِ حِسَابَہُمْ فِی غَفْلَۃِ معرضون O ترجمہ: لوگوں کے حساب کا وقت آگیا پھر بھی وہ لوگ غفلت میں بدمست ہیں۔ 
اللہ تعالیٰ زمانے کہ قسم کھاکر کہتا ہے ک انسان گھاٹے میں ہے۔ چنانچہ نوجوانوں کو چاہیے وہ عہد تازہ کریں کہ وہ وقت جیسی قیمتی نعمت کو اچھی طرح سے استعمال کریں گے اور اپنے آپ کو اس قرآنی آیت کا مصداق بنائیں۔
یَا ایہاالذِینَ اَمنُواتقُواللّٰہ ولتنظر نفس ما قَدَّمَتْ لِغدٍ واتقوااللّٰہ O (الحشر) ترجمہ: اے وہ لوگ جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا سامان کیا ہے۔ 

Contact +91 8080997775
   8655084787

http://www.fikrokhabar.com/index.php/component/k2/item/4062-waqt-ki-barbadi

IMPORTANCE OF TRADE IN ISLAM BY PROF IRFAN SHAHID|اسلام میں تجارت کی اہمیت اور سود کی حرمت ایک تنقیدی جائزہ , پروفیسرعرفان شاہد…استاذ برائے معاشیات و بزنس اسٹڈیز۔ممبی

IMPORTANCE OF TRADE IN ISLAM BY PROF IRFAN SHAHID|اسلام میں تجارت کی اہمیت اور سود کی حرمت ایک تنقیدی جائزہ , پروفیسرعرفان شاہد…استاذ برائے معاشیات و بزنس اسٹڈیز۔ممبی.

IMPORTANCE OF TRADE IN ISLAM BY PROF IRFAN SHAHID|اسلام میں تجارت کی اہمیت اور سود کی حرمت ایک تنقیدی جائزہ , پروفیسرعرفان شاہد…استاذ برائے معاشیات و بزنس اسٹڈیز۔ممبی

Image

اسلام میں تجارت کی اہمیت اور سود کی حرمت ایک تنقیدی جائزہ 

پروفیسرعرفان شاہد…استاذ برائے معاشیات و بزنس اسٹڈیز۔ممبی

آج کے جدید صنعتی دور میں تجارت کرنا ہر مالدار کے لیے بہت ضروری ہوگیا ہے کیونکہ (Inflation) افراط زر روز بروز آپ کی دولت/ روپے کی قوت خرید کو کم کرتا رہتا ہے۔ مثال کے طور پر آج کسی کے پاس دس ہزار روپے ہے تو ہو سکتا ہے اس روپے کی قوت خرید (Purchase Power) دو سال بعد آٹھ ہزار ہوجائے۔

دوسری بات یہ ہے کہ تجارت سے بیک وقت بہت سارے لوگ مستفید ہوتے رہتے ہیں اور ایک طرح سے انسانیت کی خدمت بھی ہوتی رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کو مختلف حصوں اور خطوں میں بانٹ رکھاہے۔ چنانچہ تجارت کے ذریعہ سارے جگہوں کے لوگ ایک دوسرے کی پیداوار اور معدنیاتی اشیاء سے فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں۔ تجارت کی صورت میں سرمایہ بہت سارے لوگوں کے درمیان گردش کرتی رہتی ہے اور جیسا کہ قرآن مجید میں شورۃ الحشر نمبر7 میں اس کی ترغیب بھی دلائی گئی ہے کہ دولت صرف مالدار لوگوں کے پاس ہی گردش نہ کرتی رہے۔ 
مالداروں میں دولت گردش کرنے کی وجہ سے سماج اور معیشت میں بڑا تفاوت پیدا ہوجاتا ہے ۔ سماج و سوسائٹی کا ایک طبقہ ترقی کرتا چلا جاتا ہے اور دوسرا طبقہ مفلسی اور غربت میں دھنستا چلا جاتا ہے۔ تجارت کے ذریعہ سے تفاوت کا یہ مسئلہ کسی قدر حل ہوسکتا ہے۔ بلاشبہ تجارت کے بہت سارے فوائد ہیں۔ اسی وجہ سے اکثر و بیشتر ماہرین معاشیات نے تجارت پر کافی زور دیا ہے اور تجارت کو قائم کرنے کے لیے بڑے بڑے عالمی ادارے بھی قائم کیے۔ تجارت کی وجہ سے ملک میں پیدا وار کی شرح بڑھ بھی جاتی ہے۔ 
امام بیہقی نے اپنی کتاب سنن میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قول نقل کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ’’نیک اور دیانت دار تاجر قیامت کے دن شہداء اور صدیقین کے ساتھ ہوں گے۔ اللہ کے رسول ﷺبذات خود نبوت سے پہلے ایک تاجر تھے۔ آپﷺ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مال شام کے بازار میں فروخت کیا کرتے تھے۔ قرآن مجید نے متعدد جگہوں پر بلاواسطہ طور پر تجارت کو احسن گردانا ہے اور تلاش معاش کی ترغیب دلائی ہے۔ 
صحابہ اکرام میں بھی بہت سارے لوگ تاجر تھے۔ حضرت عبدالرحمن ابن عوفؓ ایک مشہور صحابی گذرے ہیں۔ آپ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ آپ کودنیا ہی میں جنت کی بشارت دے دی گئی تھی۔ آپ صحابی رسول ﷺہونے کے ساتھ ساتھ آپ ایک بہت اچھے تاجر بھی تھے۔ آپؓ لوگوں کی مدد کیا کرتے تھے۔ مالی طور پر آ پ نے اسلام کو تقویت پہنچایا ہے۔ 
مختصر یہ کہ مدد، احسان، زکوٰۃ، حج اور قرض حسنہ وغیرہ اسی وقت ممکن ہوگا جب لوگوں کے پاس مال ہوگا اور تجارت و شراکت کے ذریعہ مال کا حصول بہت ہی اچھے انداز میں ہوتا ہے۔ اس پیشہ میں برکت بھی ہے۔ لیکن آج کل مسلمان دن بہ دن تجارت سے دور ہوتے چلے جارہے ہیں۔ بہت کم ہی لوگ اس پیشے سے وابستہ ہیں اور جو لوگ بھی اس پیشے سے منسلک ہیں ان میں مکار اور عیار لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ آج کل کے نوجوان ہمیشہ نوکری کے ہی پیچھے پریشان ہیں اور نوکری کا عالم یہ ہوگیا ہے کہ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی ہے۔ بہت کم ہی مقام پر نوکری / ملازمت توازن کے ساتھ ہوتی ہے۔ ورنہ کبھی نوکر مالک کا استحصال کرنا ہے۔ جیسے گورنمنٹ ڈپارٹمنٹ اور کبھی مالک نوکر کا استحصال کرتا ہے جیسے پرائیویٹ سیکٹر۔ جب بھی کسی مالک کو اپنے نوکر سے ایک لاکھ روپے کا نفع ہوتا ہے تو بڑی مشکل سے وہ اپنے نوکر کو 6 یا 7 ہزار روپیہ دیتا ہے۔ ہر مالک تجربہ کار شخص/ نوکر کو ہی ڈھونڈ رہا ہے۔ کوئی مالک نہیں چاہتا ہے کہ وہ کسی ناتجربہ کار شخص کو اپنے یہاں پر نوکر رکھے اور پھر اسے تجربہ کار بنائے۔ آج کل یہ وبا گلف ممالک میں بہت زیادہ پھیلی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کا بہت ہی جلد علاج کرے گا۔ یہ ہے نوکری کامعاملہ۔ 
تجارت کیسے کیا جائے۔ کیوں کیا جائے اور کب کیا جائے۔ اس کے متعلق دنیا کے لوگوں نے صرف اور صرف اسلام سے ہی سیکھا ہے۔ امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ نے علم اورتجارت کو سیکھنا اور اس سے وابستہ رہنا فرض کفا یہ بتایا ہے۔ تاریخ میں ملتا ہے کہ عرب تاجر اس قدر ایماندار اور سچے ہوتے تھے کہ جہاں بھی وہ تجارت کے لیے جاتے تھے اسلام خود بخود ان کے اخلاق سے لوگوں میں پھیلنے لگتا تھا۔ 
لیکن افسوس جب دنیا کی زمام کار بددیانت لوگوں کے ہاتھ میں آیا تو انہو ں نے مسلمانوں کے بے مثال خدمت کو تاریخ معاشیات کی کتابوں سے کھرچ کر پھینک دیا۔ اس کی جھلک آج بھی معاشیات کی تاریخی کتابوں میں ملتی ہے۔ پروفیسر سوچیٹر نے اس حقیقت سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی ہے لیکن کسی نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ سارے ماہرین معاشیات نے انہیں منفی تنقید کا ہدف بنایا۔ اب مسلمانوں کو اس کے متعلق کچھ مثبت انداز میں سوچنا چاہیے۔ آج کے ماہرین معاشیات نظریہ تجارت کو مرکنٹالزم ایڈم اسمتھ ، جے ایم کینز، پروفیسر ہبرلہ اور ہکسرا وہلن کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ لیکن وہ اسلام کے نظریہ تجارت سے نابلد ہیں۔ کچھ لوگ اس حقیقت سے واقف بھی ہیں لیکن ان کے پاس وقت نہیں ہے کہ وہ دنیا کے سامنے اس راز کو فاش کرسکیں۔
قرآن مجید میں بارہ مقامات پر سود کے حرمت کی بات آئی ہے۔ سورۃ البقرۃ میں سودی لین و دین کرنے والے کے خلاف جنگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو یہ آیت 
O یا ایہا الذین آمنوا تقوا للّٰہ وذروا مابقی من الربوان کنتم مومنین فان لم تفعلوا فاذنوا بحرب من اللّٰہ ورسولہ O (سورۃ البقرۃ)
اے ایمان والوں اگر واقعی تم مسلمان ہو تو (سود کی حرمت کے بعد) جو سود تمہارا باقی رہ گیا ہے اس سے درگذر کرو اگر تم ایسا نہ کرو تو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کے لیے تیار ہوجاؤ۔
یہ ہے قرآن کا فیصلہ سود کے متعلق۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب کوئی انسان سودی کاروبار میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کے اندر سے انسانیت ختم ہوجاتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سود خور انسان اپنے کسی غریب بھائی کو دور نہیں کرے گا اور نہ ہی سود کے بغیر قرض دے گا جو انسانی سماج کے اندر ناسور پیدا کرسکتا ہے۔ سود خور انسان ہمیشہ سود ہی کو اپنا ذریعہ آمدنی بناتا ہے۔ اس کے برخلاف غیر سود خور انسان اپنا رزق تجارت یا محنت کے ذریعہ حاصل کرتا ہے۔ 
بیسویں صدی کے وسط میں بے شمار ماہرین معاشیات نے تجارت کو سود سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ 
پروفیشر روبرٹ منڈل اور پروفیسر فلیمنگ مارکس اس معاملے میں بہت ہی نمایاں رہے ہیں۔ انہوں نے اس کے تعلق سے ایک نظریہ پیش کیا تھا جسے دنیا \”Mundle Flaming Module in Open Economy\” کے نام سے جانتی ہے۔ بعد میں بہت سارے ماہرین معاشیات اس موضوع پر کتابیں لکھی ہیں۔ لیکن اس کا کریڈٹ پروفیسر منڈل اور فلیمنگ ہی کو ملتا ہے۔ یہ دونوں حضرات نے سود کو عالمی تجارت سے جوڑنے کی بے انتہا کوشش کی ہے چنانچہ سود عالمی تجارت کے ساتھ بہت ہی حساس ہوگیا ہے۔ اگر عالمی طور پر سود کی شرح میں ذرہ برابر اتار چڑھاؤ ہو تو اس سے عالمی تجارت بہت زیادہ متاثر ہونے لگتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جب ملک کا تجارتی میزانیہ (BOP) اور عالمی سود کی شرح یکساں ہوں تبھی ایک صحت مند تجارت کی توقع کی جاسکتی ہے۔ اس کے عدم موجودگی میں دو ہی صورت پیدا ہوسکتی ہے۔ ایک یہ کہ وہ ملک تجارت کے ذریعہ مالدار ہوجائیں یا کنگال ہوجائے۔ 
دوسرا نظریہ پروفیسر بومل اور ٹوبن کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انسان کو اپنا پیسہ ہمیشہ بینک میں ہی رکھنا چاہیے تاکہ وہ سود کی رقم سے محروم نہ ہوں۔ حالانکہ یہ بالکل واضح ہے کہ جب لوگ اپنے پیسوں کو صرف بینک ہی میں رکھیں گے اور اس سے کوئی تجارت نہیں کریں گے تو لامحالہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ معیشت میں پیداوار کی کمی ہوجائے گی۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ جب لوگ پیسے کے ہیرا پھیری میں مصروف ہوجائیں گے یعنی سود پر ایک دوسرے کو رقم دیں گے تو تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع کم ہوجائیں گے اور کچھ دن کے بعد معیشت میں پیداوار کی کمی ہوجائے گی۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ ملک کی معیشت دیوالیے کی نگار پر پہنچ جائے گی۔ جیسا کہ امریکہ اور یوروپ اس سے متاثر ہو کر معاشی بد حالی کا شکار ہو رہے ہیں جس ان کے نکلنے کی ایک ہی صورت ہے کہ وہ اسلامی نظام تجارت کو فروغ دینے میں مددگار ہوں۔  

 

CONTACT  NO +91 8080997775 

EMAIL:shahid_irfan2002@yahoo.com

 

موجودہ دور میں اسلامی بینکنگ و فائنانس کے مطالعہ کی اہمیت اور ضرورت | Importance to Study Islamic Bankig and Finance by Prof IFAN SHAHID

Image

 

موجودہ دور میں اسلامی بینکنگ و فائنانس کے مطالعہ کی اہمیت اور ضرورت قرآن و حدیث کی روشنی میں

 پروفیسرعرفان شاہد استاذ برائے معاشیات و بزنس اسٹڈیز

اسلامی بینکنگ اور فائنانس دور جدید کی ایک اصطلاح ہے لیکن اس کا تعلق معاملات سے اور اسلام میں معامات کو بڑی اہمیت حاصل ہے لہٰذا اس وجہ سے بھی اس موضوع کی اہمیت بڑھ جاتی ہے اور اس کے مطالعے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ تجارت کے متعلق بہت ساری حدیثیں موجود ہیں جو مختلف کتب احادیث میں بکھری ہوئی ہیں۔ قرآن نے بھی اچھے تاجروں کی خوبصورت لفظوں میں تعریف کی ہے نیز ان کو بشارت بھی دی گئی ہے کہ نیک ایماندار تجار حضرات قیامت کے دن شہداء اور صدیقین کے ساتھ اُٹھائے جائیں گے۔

اس کے علاوہ بھی فقہ کی جامع کتابوں میں اس کے متعلق ایک مکمل باب ہے جسے ہم کتاب البوع کے نام سے جانتے ہیں جو خالصتاً انسانی معاملات اور تجارت سے بحث کرتی ہے۔ اس باب کو سالہا سال مختلف پہلو سے طلباء کو مدارس میں پڑھایا جاتارہا ہے تاکہ اس معاملات سے متعلق چیزوں سے ان کو اچھی طرح سے متعارف کرایا جاسکے تاکہ یہ طلباء جب پڑھ کر عملی دنیا میں جائیں تو لوگوں کی معاملات میں بہتر رہنمائی کرسکیں اور خود بھی دوسرے لوگوں کے لیے اسوہ اور نمونہ بنیں۔
تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اسلام کی اشاعت تاجروں کے ذریعہ زیادہ ہوئی۔ جہاں بھی مسلم تاجر تجارت کی غرض سے گئے اپنے ساتھ اسلام اور اچھے اخلاق بھی لے گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تجارت کے ساتھ لوگ اسلام میں بھی داخل ہونے لگے۔ آج بھی ہمارے دور میں ایسی مثالیں ہیں جن میں کئی غیر معمولی حیثیت کے حامل لوگ اخلاق اور مسلمانوں کی تجارتی امور کی صفائی کو دیکھ کر اسلام میں داخل ہوگئے اور جہاں بھی اسلام اخلاق تجارت کے ذریعہ سے آیا ابھی بھی ٹوٹی پھوٹی صورت میں موجود ہے۔ چین، ملیشیا، تھائی لینڈ، سری لنکا، ہندوستان، پاکستان وغیرہ اسکی زندہ مثال ہے۔
قرآن صحیح ناپ تول کی تلقین کرتا ہے جس کا تعلق معاملات سے ہے۔ اسلامی بینکنگ کی اساس بھی اسی پر ہے کہ زر کے ذریعہ بھی لوگوں کے درمیان انصاف کیا جائے۔ اس کے علاوہ قرآن و حدیث دونوں سود کی مذمت کرتے اور خالص تجارت کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ نیز سودی کاروبار کرنے والوں کو جنگ دھمکی بھی دیتے ہیں اور سود کے گناہ کو اپنی ماں سے زنا کرنے کے مترادف قرار دیتے ہیں۔ لہٰذا اس زاویے سے بھی اسلامی بینکنگ اور فائنانس کے مطالعے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو سود کے خطرات سے بچایا جائے اور خود کو بھی سود سے دور رکھا جائے۔ اس علم کی عدم موجودگی کی وجہ سے بھی بہت سارے اسلامی بینکوں میں کام کرنے والے لاعلم افراد اسلامی تجارت میں سود کے آمیزش کی کوشش کرتے ہیں۔ بہت سارے ایسے بھی لوگ ہیں جو دارالحرب اور دارالاسلام کا بہانہ بناکر سود کو جائز قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر کچھ لوگ اس کوشش میں ناکام ہوجاتے ہیں تو سود کو جائز قرار دینے کے لیے بے شمار تاویلیں ڈھونڈنے لگتے ہیں، مزید براں صفائی میں یہ پیش کرتے ہیں کہ اللہ کے رسولؐ کے زمانہ کا سود استحصال پر منحصر تھا اس لیے سود کی ممانعت تھی موجودہ زمانے کا سود اس کے برخلاف اس کی ساخت مختلف ہے اور موجودہ دور کا سود تو کافروں کا پیشہ ہے اس لیے تو بدرجہ اولی ہمیں کھانا چاہیے۔ حالانکہ قرآن مجید کم و بیش سات جگہوں پر سود کی مذمت کی ہے۔ سود کے حرمت کے اوقات کے تعین کے متعلق تو گفتگو کی جاسکتی ہے کیونکہ سود کی حرمت شراب کی حرمت کی طرح اچانک نہیں ہوئی بلکہ اس کی حرمت میں کچھ وقت لگا ہے۔ اس وقت لگنے کے متعلق بہت ساری توضیحات ہوسکتی ہیں مثلاً سود بہت ہی باریک اور ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اس کا تصفیہ چند گھنٹوں میں ہونا باعث ابہام ہوسکتا تھا لیکن اس کی مکمل حرمت کے بارے میں کوئی شک نہیں۔ یہی وجہ تھی کہ اللہ کے رسولؐ نے حجت الوداع کے موقع پر سب سے پہلے اپنے چچا عباس کے سود کو معاف کیا اور لوگوں سے خطاب کیا کہ لوگوں زمانہ جاہلیت کے سود کو چھوڑدیں اور آئندہ سودی کاروبار کی طرف بھٹکیں نہیں۔ اس قدر سخت وحید کے باوجود سود کو نہیں چھوڑ پارہے ہیں۔ اس کی کمی محسوس کی جارہی ہے کہ لوگوں کو جدید بینکنگ اور فائنانس کے اصولوں سے لوگوں کو روشناس کرایا جائے اور سود کے مختلف طبقات اور شکلوں کو لوگوں کے سامنے واضح کیا جائے اور ایسا اسی وقت منظم طور پر ممکن ہوسکتا ہے جب اس موضوع کو ایک دینی فریضہ سمجھ کر مطالعہ کیا جائے اس کی باریکیوں کو سمجھا جائے اور دوسروں کو بھی اُبھارا جائے کہ وہ بھی اس بامقصد مشن میں حصہ لیں۔ اس علم کے حصول کے بہت سارے طریقے ہوسکتے ہیں مثلاً کسی کورس وغیرہ میں داخلہ لے کر اس کو سیکھیں یا خود سے بازار سے معیاری کتابیں خریدیں اور دلچسپی کے ساتھ اس موضوع کا مطالعہ کریں۔ بہت سارے ادارے اس جانب توجہ دے رہے ہیں لیکن اس میں کچھ ایسے لوگ ہیں جن کا مقصد حصول زر کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے جب ایسے ادارے سے کسی طالب علم کی ملاقات ہوتی ہے تو سب سے پہلے اس طالب علم کو ہری ہری گھاس دیکھاتے ہیں اور یہ لالچ دیتے ہیں کہ ہمارا یہ کورس کرنے کے بعد فوراً آپ کسی اسلامی بینکنگ کے منیجر یا ڈائریکٹر ب جاؤ گے یا آپ کو سعودی بھیج دیا جائے گا جہاں آپ اس کورس کی مدد سے بیشتر کما سکو گے وہ کبھی بھی یا ذرہ برابر بھی یہ کوشش نہیں کرتے کہ طالب علم کو بتائیں کہ اس کا علم ہر انسان کے لیے ضروری ہے۔ قیامت کے دن لوگوں سے مال کے متعلق سوال کیا جائے گا اور جب تک انسان جواب نہیں دے گا اپنی جگہ سے ہٹ نہیں سکے گا۔ یہ تو رہا عام انسان کی بات وہ صحابی جن کو دنیا ہی میں جنت کی باشرت دے دی گئی ہے ان سے بھی ان کے مال کے متعلق سوال کیا جائے گا اور اسی طرح سے ایک مرتبہ حضرت عمرؓ کے دور میں کوئی آدمی بازار میں آیا اور بے تحاشہ اپنی چیزوں کی قیمت گھٹا کر بیچنا شروع کردیا۔ اس شخص نے اپنی چیزوں کی قیمت اتنی کم کردی کہ دوسرے تاجر حضرات اس شخص کے مقابلے میں اپنی چیزوں کو بازار میں بیچ نہیں پارہے تھے۔ اس تاجر کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ جب سارے تاجر بازار چھوڑ دیں گے تو وہ تاجر من مانی قیمت اپنی اشیاء کو بازار میں فروخت کرے گا۔ دریں اثناء یہ بات حضرت عمرؓ کے پاس جاتی جو خلیفہ وقت ہوئے ہیں۔ وہ بازار میں اس تاجر کے پاس آتے ہیں اور اس شخص سے کہتے ہیں کہ اپنی چیزوں کو قیمت بڑھاؤ یا بازار سے نکل جاؤ۔ اس کے بعد لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں جس کو ہمارے بازار کا علم نہ ہو وہ ہمارے بازار میں نہ آئے۔ یہاں بازار کے علم سے اکثر و بیشتر فقیر نے علم تجارت یا علم معاملات لیا جس کا بنیادی حلال و حرام میں تمیز کرتے ہوئے اس سے بچنا ہے۔ سود اس وقت بھی تجارت کا حصہ سمجھا جاتا ہے یہودی و عیسائی اس چیز کو ڈھنڈورا پیٹتے رہتے تھے کہ سود بھی تجارت کی طرح ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں ذالک بانہم یقولون اسما بیع مثل الربو واحل اللہ الیبع و حرم الرباہ (سورۃ بقرہا آیت 375)
اور آج بھی یہی صورتحال ہمارے معاشرے میں پائی جارہی ہے۔ لوگ سود کو حلال کرنے کے مختلف حیلے اور بہانے ڈھونڈتے پھر رہے ہیں۔ چنانچہ معاملات کا علم سنجیدگی سے حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ ہر ایک شخص اس کے متعلق فکر مند ہونا چاہیے۔
ایک اہم بات جو شدت سے محسوس کی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا کی معیشت سود کے بیساکھی پر قائم ہے اور لوگوں کو بحسن و خوبی معلوم ہے کہ بیساکھی کی بناء پر کسی مقابلے میں دوڑا نہیں جاسکتا۔ لوگ معیشت کی سود خور بیساکھی سے عاجز آچکے ہیں گزشتہ معاشی بحران اسی سودی کاروبار کا منبہ اور سرچم ہے۔ 
لوگ سنجیدگی سے ایک ایسے نظام کی تلاش میں ہیں جو لوگوں کو سود کی بے ساکھی سے بچا کر معاشی استحکام فراہم کرسکے۔ گزشتہ ایک دہائی میں اس سودی نظام کی وجہ سے کروڑوں کے قریب لوگ روزگار سے محروم ہوگئے ہیں۔ اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے بہت ساری عورتوں نے جسم فروشی کا پیشہ اختیار کرلیا ہے اور لاکھوں کے قریب انسانوں نے خودکشی کرلی ہے اور دنیا اس وقت اسلام کی طرف نظر لگائے بیٹھی ہوئی ہے کہ شاید اسلام ہی اس مسئلے کا حل پیش کرسکے۔ لیکن افسوس مسلمان خود اپنی شریعت سے واقف نہیں ہیں تو وہ دوسروں کو کیا راستہ دیکھائیں گے۔ قرآن کہتا ہے کہ (کنتم خیرا امۃ اجرجت للناس تاجروں بالمعروف و تنہون عن المنکر) تم بہترین امت ہو۔ تمہیں اس سرزمین پر برپا کیا گیا ہے تاکہ تم لوگوں کو بھلائی کا حکم دو اور بُرائی سے روکو۔ لہٰذا اس حکم کے مطابق ہر مسلمان کو چاہیے کہ علم معاملات اور جدید بینکنگ و فائنانس کو سیکھے اور خود بھی حرام سے بچے اور دوسروں کو بھی بچائے۔ 

CONTACT NO. +91 8080997775

EMAIL: shahid_irfan2002@yahoo.com