IMPORTANCE OF TIME IN ISLAM BY IRFAN SHAHID | وقت کی بربادی! نوجوانوں کے لئے ایک لمحہ فکریہ

 

Image

وقت کی بربادی! نوجوانوں کے لئے ایک لمحہ فکریہ

پروفیسرعرفان شاہد 

  استاذ برائے معاشیات و بزنس اسٹڈیز

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ ان نعمتوں میں وقت بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ اس ا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ انسان مال و دولت کے ذریعہ سے دنیا کی ہر چیز خرید سکتا ہے لیکن وقت نہیں خریدسکتا ہے۔ اتنا قیمتی ہونے کے باوجود بھی اللہ تعالیٰ نے سارے انسانوں کو موقع دیا کہ وہ وقت سے فائدہ اُٹھائیں۔ مال و دولت اور بہت ساری دیگر نعمتیں سارے انسانوں کو نہیں میسر ہیں۔ لیکن وقت ہر انسان کے پاس ہے۔

اب یہ اس کے اوپر منحصر ہے کہ وہ اس نعمت سے کس قدر فائدہ اُٹھا رہا ہے۔ دنیاوی نظام میں کچھ بھی ہوتا رہے لیکن وقت اپنی رفتار سے چلتا رہتا ہے۔ دنیا کا کوئی بھی سائنسداں یہ نہیں کہہ سکتا کہ آج سورج ایک گھنٹہ لیٹ سے طلوع ہوا اور دو گھنٹہ بعد غروف ہوا۔ نظام میں گڑبڑی کی وجہ سے بہت ساری چیزیں متاثر ہوتی رہتی ہیں۔ مثلاً زلزلے کی وجہ سے زمین و مکان تباہ ہوجاتے ہیں، انسان مرجاتے ہیں۔ زیادہ بارش ہونے کی وجہ سے سیلاب آجاتا ہے، فصلیں تباہ ہوجاتی ہیں۔ آمد و رفت کے ذرائع بند ہوجاتے ہیں۔ مختصر یہ کہ ان تمام حادثات اور واقعات کی وجہ سے دنیا کی بہت ساری چیزیں متاثر ہوتی رہتی ہیں۔ لیکن وقت پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ وقت اپنے ہی رفتار سے چلتا رہتا ہے۔
انسان روپے پیسے کے متعلق حساب و کتاب رکھتا ہے۔ میزانیہ کی کمی و بیشی کی صورت میں حساب و کتاب پر نظرثانی کرتا ہے لیکن وقت جیسی قیمتی چیز کے متعلق بے خبر ہے۔
انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے نفس سے وقت کے متعلق محاسبہ کرے کہ اس نے دن بھر میں کیا کیا اچھے اور بُرے کام کیے ہیں۔ 
حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے ’’لوگوں اپنا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارا حساب لیا جائے، اور اپنے اعمال کو تولو قبل اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی میزان میں وزن کیے جائیں۔‘‘
حضرت عمرؓ کا معمول تھا کہ جب رات ہوجاتی تھی تو وہ اپنے قدموں پر کوڑا مارکر اپنے نفس سے پوچھتے کہ تم نے آج کیا عمل کیا؟ 
ایک مشہور تابعی میمونؒ بن مھران فرماتے ہیں: ’’ایک متّقی شخص کو اپنے نفس کا حساب جابر بادشاہ اور لالچی ساجھے دار سے زیادہ سخت طریقے سے کرتا ہے۔‘‘
حضرت حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ مومن اپنے نفس پر قوام ہے۔ وہ اللہ کی پکڑ کے خوف سے ہمیشہ اپنے نفس کا محاسبہ کرتا رہتا ہے اور جو لوگ اس دنیا میں روزانہ اپنا محاسبہ کرتے رہتے ہیں ان کا حساب قیامت کے دن ہلکا ہوگا۔ اس کے برخلاف جو لوگ اپنے نفس کا محاسبہ نہیں کرتے اور غفلت میں زندگی گزارتے رہے ان کا حساب قیامت کے دن بہت ہی سخت ہوگا۔
آج کل بہت سارے نوجوان بھائی بہن ہر وقت لہو و لعب میں مبتلا رہتے ہیں۔ فلم بینی، کرکٹ بینی، اور سگریٹ نوشی اُن کے زندگی کا مشغلہ بن گیا ہے۔ بے شمار دینی گھرانے کی مستورات بھی قرآن و حدیث کا مطالعہ چھوڑ کر بکواس اور فحش رسائل و جرائد کا مطالعہ کرتی رہتی ہیں۔ انٹرنیشنل فلم اکیڈمی کے مطابق ہندوستان میں 15 کروڑ سے لے کر 18 کروڑ نوجوان مرد و عورتیں روزانہ سنیما گھروں کا چکر کاٹتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بے شمار لہو و لعب ہیں جس میں نوجوان اپنا قیمتی وقت برباد کرتے رہتے ہیں۔
بلاشبہ وقت بہت قیمتی شئے ہے اس کے متعلق اللہ سبحانہ تعالیٰ قیامت کے دن ہر انسان سے سوال کرے گا۔ بالخصوص جوانی کے بارے میں پوچھے گا کہ میں نے یہ جوانی آپ کو دی تھی آپ نے اس کا کہاں استعمال کیا اور کیسے استعمال کیا۔ یہ قیامت کے بنیادی سوالوں میں سے ایک سوال ہے۔ بغیر اس کا جواب دیے ہوئے انسان اپنی جگہ سے ہٹ نہیں سکے گا۔ آج بہت سارے نوجوان اپنی پوری زندگی زنا اور منشیات کے نذر کردیتے ہیں۔ اور جب ان سے کوئی پوچھتا یا منع کرتا ہے تو کہتے ہیں کہ دیکھا جائے گا اللہ تعالیٰ غفورالرحیم ہے۔ ان لوگوں کا قیامت کے دن کیا حال ہوگا نہ قابل بیان ہے۔ قرآن نے ایسے لوگوں کو دردناک عذاب کی بشارت دی ہے اور شیطان کا ساتھی بھی ٹھہرایا ہے۔
ایک بہت بڑی خرافات جو نوجوانوں میں عام ہوتی چلی جارہی ہے وہ سالگرہ کا ہے۔ سالگرہ منانا دراصل یورپ اور امریکہ کا ایجاد ہے۔ لیکن بہت سارے نوجوان اسے عبادت سمجھ کر کرتے ہیں۔ افسوس یہ کتنی بڑی حماقت کی بات ہے کہ جب لوگ اپنی عمر کا ایک سال لہو و لعب اور عیاشی میں ضائع کردیتے ہیں تو وہ شاندار محفل کا اہتمام کرتے ہیں۔ انواع و اقسام کے لذیذ اور پرلطف کھانے کھاتے ہیں اور دوسروں کو بھی کھلاتے ہیں۔ بہت سارے گھرانوں میں رقص (ناچ اور گانے) اور حرام مشروبات کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ موم بتّیاں جلائی جاتی ہیں اور پھر اسے ڈرامائی انداز میں بجھایا بھی جاتا ہے نیز ایک دوسرے کو مبارکباد اور تحفے و تحائف بھی دیے جاتے ہیں۔
حالانکہ عقلمند انسان کے لیے ضروری یہ تھا کہ اس موقع کو غنیمت سمجھتا اور اپنی زندگی کے ایک سال گزر جانے پر غور سے کام لے جس طرح سے ایک ہوشمند تاجر تجارت کے ایک سال گذر جانے کے بعد اپنے رجسٹروں ، موجودات اور قرضوں کا جائزہ لیتا ہے اور یہ دیکھتا ہے کہ اس کی عمر کتنا حصہ اس کے حق میں گذرا اور کتنا اس کے خلاف، کیا فائدہ ہوا اور کیا نقصان اور پھر اس موقع پر اللہ رب العزت سے دُعا کرتا ہے کہ ’’اس کا حال اس کے ماضی سے بہتر ہو اور اس کا مستقبل اس کے حال سے بہتر ہو۔‘‘ اسی طرح ذی عقل انسان کے مناسب تو یہ تھا کہ وہ اپنی عمر سے ایک سال نکل جانے پر اپنے آپ کا محاسبہ کرتا۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے بارے میں بازپرس کرے گا۔ وہ اپنے آپ پر غم کرتا کہ اس نے اپنے عمر کا ایک حصہ گزار دیاگویا کہ اس کے عمر کی ایک بنیاد ڈھ گئی اور اس کی کتاب زندگی کا نیا باب شروع ہوگیا اور اپنی موت سے ایک سال قریب ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ سورۃ انبیاء میں فرماتا ہے کہ ’’ اقتربَ للناسِ حِسَابَہُمْ فِی غَفْلَۃِ معرضون O ترجمہ: لوگوں کے حساب کا وقت آگیا پھر بھی وہ لوگ غفلت میں بدمست ہیں۔ 
اللہ تعالیٰ زمانے کہ قسم کھاکر کہتا ہے ک انسان گھاٹے میں ہے۔ چنانچہ نوجوانوں کو چاہیے وہ عہد تازہ کریں کہ وہ وقت جیسی قیمتی نعمت کو اچھی طرح سے استعمال کریں گے اور اپنے آپ کو اس قرآنی آیت کا مصداق بنائیں۔
یَا ایہاالذِینَ اَمنُواتقُواللّٰہ ولتنظر نفس ما قَدَّمَتْ لِغدٍ واتقوااللّٰہ O (الحشر) ترجمہ: اے وہ لوگ جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا سامان کیا ہے۔ 

Contact +91 8080997775
   8655084787

http://www.fikrokhabar.com/index.php/component/k2/item/4062-waqt-ki-barbadi

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s