IMPORTANCE OF TRADE IN ISLAM BY PROF IRFAN SHAHID|اسلام میں تجارت کی اہمیت اور سود کی حرمت ایک تنقیدی جائزہ , پروفیسرعرفان شاہد…استاذ برائے معاشیات و بزنس اسٹڈیز۔ممبی

Image

اسلام میں تجارت کی اہمیت اور سود کی حرمت ایک تنقیدی جائزہ 

پروفیسرعرفان شاہد…استاذ برائے معاشیات و بزنس اسٹڈیز۔ممبی

آج کے جدید صنعتی دور میں تجارت کرنا ہر مالدار کے لیے بہت ضروری ہوگیا ہے کیونکہ (Inflation) افراط زر روز بروز آپ کی دولت/ روپے کی قوت خرید کو کم کرتا رہتا ہے۔ مثال کے طور پر آج کسی کے پاس دس ہزار روپے ہے تو ہو سکتا ہے اس روپے کی قوت خرید (Purchase Power) دو سال بعد آٹھ ہزار ہوجائے۔

دوسری بات یہ ہے کہ تجارت سے بیک وقت بہت سارے لوگ مستفید ہوتے رہتے ہیں اور ایک طرح سے انسانیت کی خدمت بھی ہوتی رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کو مختلف حصوں اور خطوں میں بانٹ رکھاہے۔ چنانچہ تجارت کے ذریعہ سارے جگہوں کے لوگ ایک دوسرے کی پیداوار اور معدنیاتی اشیاء سے فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں۔ تجارت کی صورت میں سرمایہ بہت سارے لوگوں کے درمیان گردش کرتی رہتی ہے اور جیسا کہ قرآن مجید میں شورۃ الحشر نمبر7 میں اس کی ترغیب بھی دلائی گئی ہے کہ دولت صرف مالدار لوگوں کے پاس ہی گردش نہ کرتی رہے۔ 
مالداروں میں دولت گردش کرنے کی وجہ سے سماج اور معیشت میں بڑا تفاوت پیدا ہوجاتا ہے ۔ سماج و سوسائٹی کا ایک طبقہ ترقی کرتا چلا جاتا ہے اور دوسرا طبقہ مفلسی اور غربت میں دھنستا چلا جاتا ہے۔ تجارت کے ذریعہ سے تفاوت کا یہ مسئلہ کسی قدر حل ہوسکتا ہے۔ بلاشبہ تجارت کے بہت سارے فوائد ہیں۔ اسی وجہ سے اکثر و بیشتر ماہرین معاشیات نے تجارت پر کافی زور دیا ہے اور تجارت کو قائم کرنے کے لیے بڑے بڑے عالمی ادارے بھی قائم کیے۔ تجارت کی وجہ سے ملک میں پیدا وار کی شرح بڑھ بھی جاتی ہے۔ 
امام بیہقی نے اپنی کتاب سنن میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قول نقل کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ’’نیک اور دیانت دار تاجر قیامت کے دن شہداء اور صدیقین کے ساتھ ہوں گے۔ اللہ کے رسول ﷺبذات خود نبوت سے پہلے ایک تاجر تھے۔ آپﷺ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مال شام کے بازار میں فروخت کیا کرتے تھے۔ قرآن مجید نے متعدد جگہوں پر بلاواسطہ طور پر تجارت کو احسن گردانا ہے اور تلاش معاش کی ترغیب دلائی ہے۔ 
صحابہ اکرام میں بھی بہت سارے لوگ تاجر تھے۔ حضرت عبدالرحمن ابن عوفؓ ایک مشہور صحابی گذرے ہیں۔ آپ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ آپ کودنیا ہی میں جنت کی بشارت دے دی گئی تھی۔ آپ صحابی رسول ﷺہونے کے ساتھ ساتھ آپ ایک بہت اچھے تاجر بھی تھے۔ آپؓ لوگوں کی مدد کیا کرتے تھے۔ مالی طور پر آ پ نے اسلام کو تقویت پہنچایا ہے۔ 
مختصر یہ کہ مدد، احسان، زکوٰۃ، حج اور قرض حسنہ وغیرہ اسی وقت ممکن ہوگا جب لوگوں کے پاس مال ہوگا اور تجارت و شراکت کے ذریعہ مال کا حصول بہت ہی اچھے انداز میں ہوتا ہے۔ اس پیشہ میں برکت بھی ہے۔ لیکن آج کل مسلمان دن بہ دن تجارت سے دور ہوتے چلے جارہے ہیں۔ بہت کم ہی لوگ اس پیشے سے وابستہ ہیں اور جو لوگ بھی اس پیشے سے منسلک ہیں ان میں مکار اور عیار لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ آج کل کے نوجوان ہمیشہ نوکری کے ہی پیچھے پریشان ہیں اور نوکری کا عالم یہ ہوگیا ہے کہ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی ہے۔ بہت کم ہی مقام پر نوکری / ملازمت توازن کے ساتھ ہوتی ہے۔ ورنہ کبھی نوکر مالک کا استحصال کرنا ہے۔ جیسے گورنمنٹ ڈپارٹمنٹ اور کبھی مالک نوکر کا استحصال کرتا ہے جیسے پرائیویٹ سیکٹر۔ جب بھی کسی مالک کو اپنے نوکر سے ایک لاکھ روپے کا نفع ہوتا ہے تو بڑی مشکل سے وہ اپنے نوکر کو 6 یا 7 ہزار روپیہ دیتا ہے۔ ہر مالک تجربہ کار شخص/ نوکر کو ہی ڈھونڈ رہا ہے۔ کوئی مالک نہیں چاہتا ہے کہ وہ کسی ناتجربہ کار شخص کو اپنے یہاں پر نوکر رکھے اور پھر اسے تجربہ کار بنائے۔ آج کل یہ وبا گلف ممالک میں بہت زیادہ پھیلی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کا بہت ہی جلد علاج کرے گا۔ یہ ہے نوکری کامعاملہ۔ 
تجارت کیسے کیا جائے۔ کیوں کیا جائے اور کب کیا جائے۔ اس کے متعلق دنیا کے لوگوں نے صرف اور صرف اسلام سے ہی سیکھا ہے۔ امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ نے علم اورتجارت کو سیکھنا اور اس سے وابستہ رہنا فرض کفا یہ بتایا ہے۔ تاریخ میں ملتا ہے کہ عرب تاجر اس قدر ایماندار اور سچے ہوتے تھے کہ جہاں بھی وہ تجارت کے لیے جاتے تھے اسلام خود بخود ان کے اخلاق سے لوگوں میں پھیلنے لگتا تھا۔ 
لیکن افسوس جب دنیا کی زمام کار بددیانت لوگوں کے ہاتھ میں آیا تو انہو ں نے مسلمانوں کے بے مثال خدمت کو تاریخ معاشیات کی کتابوں سے کھرچ کر پھینک دیا۔ اس کی جھلک آج بھی معاشیات کی تاریخی کتابوں میں ملتی ہے۔ پروفیسر سوچیٹر نے اس حقیقت سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی ہے لیکن کسی نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ سارے ماہرین معاشیات نے انہیں منفی تنقید کا ہدف بنایا۔ اب مسلمانوں کو اس کے متعلق کچھ مثبت انداز میں سوچنا چاہیے۔ آج کے ماہرین معاشیات نظریہ تجارت کو مرکنٹالزم ایڈم اسمتھ ، جے ایم کینز، پروفیسر ہبرلہ اور ہکسرا وہلن کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ لیکن وہ اسلام کے نظریہ تجارت سے نابلد ہیں۔ کچھ لوگ اس حقیقت سے واقف بھی ہیں لیکن ان کے پاس وقت نہیں ہے کہ وہ دنیا کے سامنے اس راز کو فاش کرسکیں۔
قرآن مجید میں بارہ مقامات پر سود کے حرمت کی بات آئی ہے۔ سورۃ البقرۃ میں سودی لین و دین کرنے والے کے خلاف جنگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو یہ آیت 
O یا ایہا الذین آمنوا تقوا للّٰہ وذروا مابقی من الربوان کنتم مومنین فان لم تفعلوا فاذنوا بحرب من اللّٰہ ورسولہ O (سورۃ البقرۃ)
اے ایمان والوں اگر واقعی تم مسلمان ہو تو (سود کی حرمت کے بعد) جو سود تمہارا باقی رہ گیا ہے اس سے درگذر کرو اگر تم ایسا نہ کرو تو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کے لیے تیار ہوجاؤ۔
یہ ہے قرآن کا فیصلہ سود کے متعلق۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب کوئی انسان سودی کاروبار میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کے اندر سے انسانیت ختم ہوجاتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سود خور انسان اپنے کسی غریب بھائی کو دور نہیں کرے گا اور نہ ہی سود کے بغیر قرض دے گا جو انسانی سماج کے اندر ناسور پیدا کرسکتا ہے۔ سود خور انسان ہمیشہ سود ہی کو اپنا ذریعہ آمدنی بناتا ہے۔ اس کے برخلاف غیر سود خور انسان اپنا رزق تجارت یا محنت کے ذریعہ حاصل کرتا ہے۔ 
بیسویں صدی کے وسط میں بے شمار ماہرین معاشیات نے تجارت کو سود سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ 
پروفیشر روبرٹ منڈل اور پروفیسر فلیمنگ مارکس اس معاملے میں بہت ہی نمایاں رہے ہیں۔ انہوں نے اس کے تعلق سے ایک نظریہ پیش کیا تھا جسے دنیا \”Mundle Flaming Module in Open Economy\” کے نام سے جانتی ہے۔ بعد میں بہت سارے ماہرین معاشیات اس موضوع پر کتابیں لکھی ہیں۔ لیکن اس کا کریڈٹ پروفیسر منڈل اور فلیمنگ ہی کو ملتا ہے۔ یہ دونوں حضرات نے سود کو عالمی تجارت سے جوڑنے کی بے انتہا کوشش کی ہے چنانچہ سود عالمی تجارت کے ساتھ بہت ہی حساس ہوگیا ہے۔ اگر عالمی طور پر سود کی شرح میں ذرہ برابر اتار چڑھاؤ ہو تو اس سے عالمی تجارت بہت زیادہ متاثر ہونے لگتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جب ملک کا تجارتی میزانیہ (BOP) اور عالمی سود کی شرح یکساں ہوں تبھی ایک صحت مند تجارت کی توقع کی جاسکتی ہے۔ اس کے عدم موجودگی میں دو ہی صورت پیدا ہوسکتی ہے۔ ایک یہ کہ وہ ملک تجارت کے ذریعہ مالدار ہوجائیں یا کنگال ہوجائے۔ 
دوسرا نظریہ پروفیسر بومل اور ٹوبن کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انسان کو اپنا پیسہ ہمیشہ بینک میں ہی رکھنا چاہیے تاکہ وہ سود کی رقم سے محروم نہ ہوں۔ حالانکہ یہ بالکل واضح ہے کہ جب لوگ اپنے پیسوں کو صرف بینک ہی میں رکھیں گے اور اس سے کوئی تجارت نہیں کریں گے تو لامحالہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ معیشت میں پیداوار کی کمی ہوجائے گی۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ جب لوگ پیسے کے ہیرا پھیری میں مصروف ہوجائیں گے یعنی سود پر ایک دوسرے کو رقم دیں گے تو تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع کم ہوجائیں گے اور کچھ دن کے بعد معیشت میں پیداوار کی کمی ہوجائے گی۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ ملک کی معیشت دیوالیے کی نگار پر پہنچ جائے گی۔ جیسا کہ امریکہ اور یوروپ اس سے متاثر ہو کر معاشی بد حالی کا شکار ہو رہے ہیں جس ان کے نکلنے کی ایک ہی صورت ہے کہ وہ اسلامی نظام تجارت کو فروغ دینے میں مددگار ہوں۔  

 

CONTACT  NO +91 8080997775 

EMAIL:shahid_irfan2002@yahoo.com

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s