Islamic banking in India: challenges and scope by IRFAN SHAHID |اسلامی بینک : رکاوٹیں، اندیشے اور امکانات

Image

اسلامی بینک : رکاوٹیں، اندیشے اور امکانات

پروفیسر عرفان شاہد

 

ہندوستان میں اسلامی بینک کی ناکامی جیسے سوالات ہی غلط ہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں آج تک منظّم طور پر غیر سودی اسلامی بینک قائم ہی نہیں ہوئے ۔ لوگ دراصل جیسے اسلامی بینک تصور کرتے ہیں وہ غیر سودی سرمایہ کاری کے خدمات انجام دینے والے  ادارے ہیں۔ اگر ہم علمی یا نظریاتی  طور پر ہندوستان کا جائزہ لیں تو  ہمیں اسلامی سرمایہ کاری  تمویل کے بہت سارے کام ملتے ہیں ۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ دنیا میں اسلامی سرمایہ  کاری کے اداروں  کے قیام کی سب سے پہلی کوشش ہندوستان میں ہوئی ۔ چھوٹے و درمیانی  سطح پر کم و بیش  دوسو کے قریب غیر سودی مالیاتی  ادارے  قائم ہوئے ہیں اور ان سے عوام کو بے شمار فائدے ہوئے ہیں ۔ خصوصاً انیسویں صدی کے اواخر میں چند غیر  سودی مالیاتی ادارے ابھر کے آئے ۔ یہ ادارے  قانون اور شناختی طور سے بینک تو نہیں  تھے لیکن بینک سے مماثلت رکھنے والے کچھ کام کرتے تھے ۔ شاید اسی وجہ سے یہ ادارے عوام کے درمیان اسلامی بینک کے نام سے جانے جاتے تھے ۔ حالانکہ اسلامی بینکنگ ایک مکمل  نظام زر ہے۔

ہندوستان میں اسلامی بینک نہ قائم ہونے کی کئی و جوہات ہیں  ۔ اس میں سب سے بنیادی  وجہ علم کی کمی اور سود کے خطرات سے نا واقفیت  ہے۔ قرآن  و حدیث  نے سود کی مذمت بہت ہی سخت اور دھمکی  آمیز  لہجہ  میں کی  ہے ۔ حدیث  کی نظر  میں سودی  کاروبار میں مبتلا  ہونے والے لوگ ایسے ہیں  جیسے انہوں نے اپنی ماں  کے ساتھ زنا کیا ہو۔قرآن کریم میں تقریباً سات جگہوں  پر سود کی مذمت کی گئی ہے، اور اللہ تعالیٰ  نے سودی  کاروبار کرنے والوں کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے ۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ عوام نے کبھی منظّم طور پر اس بات کی کوشش  ہی نہیں  کی کہ اسلامی بینک کا قیام ہو ورنہ لوگ مسلم پرسنل لا ء بورڈ کے قیام کے وقت اسلامی بینکنگ  کے قیام کی خواہش  کی جاتی ہو اور اس کے علاوہ مسلم عوام ووٹ دینے سے پہلے  سیاسی پارٹیوں  کے رہنماؤں سے مطالبہ کرتی کہ انہیں اسلامی بینک  بھی چاہئے ۔ یہ بات با لکل  واضح ہے کہ بغیر کوشش کئے کوئی چیز  نہ تو دنیا میں ملتی  ہے اور نہ ہی آخرت میں ملے  گی ۔ تیسری اہم  وجہ یہ ہے کہ  ( Indian Banking Law )ہندوستانی قوانین برائے زر اسلامی بینکنگ کے قیام کی اجازت نہیں دیتی  اور دے بھی  تو کیسے  جب اس کے خواہش مند ہی نہ ہوں۔ ایک ماں بھی اپنے بچے کو اس وقت تک دودھ نہیں پلاتی جب تک بچہ رونا شروع نہ کردے۔ اس کے  علاوہ  بھی ایک اہم بات واضح ہوئی ہے کہ جو لوگ ہندوستانی ادارہ  برائے مالیاتی امور میں کام کررہے ہیں وہ بہت ہی نازک مزاج ہیں وہ مروجہ  بینکنگ  کو چلاتے چلاتے  تھک جاتے ہیں تو اسلامی بینک ان کے کیسے سنبھلے  ۔ کیونکہ  اس میں بینکنگ کے علاوہ  اسلام کا بھی نام ہے۔ چوتھی اہم بات یہ ہے کہ اسلامی بینک کو چلانے  کیلئے کچھ خاص قسم  کی صلاحیت  اور قوت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس میں سب سے پہلے کام کرنے والا طبقہ  اسلامی طور پر تعلیم یافتہ ہو اور مطلوبہ فن میں ماہر ہو۔ دوسری اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کو چلانے والے ایماندار اور سچے ہوں ، اور اس میں تیسری خصوصیت  مالی قوت  ہے۔ گذشتہ  دہائی میں جو بھی ادارے اسلامی بینک  کے نام پر قائم ہوئے تھے وہ  سارے کے سارے ان مطلوبہ خصو صیات سےخالی تھے ۔ ایک دو ادارے ہی ایسے تھے جو بمشکل  ایک یاد و شرائط پر پورے اتر رہے ہونگے ۔

موجودہ زمانے میں غیر سودی نظام کی (Demand ) طلب میں مسلسل  اضافہ ہورہا ہے ۔ اور کیوں  نا ہو کیوں  کہ جب لوگ ایک نظام سے تھک  جاتے ہیں تو وہ دوسرے  نظام کی تلاش  میں لگ جاتے ہیں ۔ موجودہ معاشی  بحران  نے دنیا کی بڑی بڑی  معیشتوں کی چولیں  ہلادی  ہیں ۔ اب عالمی معیشت اس دلدل سے نکلنے  کے لئے بغلیں جھانک رہی ہیں۔ ان کے پاس کوئی متبادل نظام نہیں ہے جس سے اس نقصان کا تتمہ  کیا جاسکے ۔ یہ تو سودی نظام  ہے جس نے پوری انسانیت کو اپنی چنگل  میں جکڑ رکھا ہے۔ اس نظام میں دولت کابہاؤ ایک خاص  طبقہ کی جانب ہوتا ۔ اس نظام میں روپیہ  صرف مالدار وں کے درمیان ہی گردش کرتا رہتا ہے اورغریب طبقہ  دن بدن غریب ہی ہوتا چلا جاتا ۔ بینک  او رمالیاتی  ادارے انہی  لوگوں کو کار وباری قرض دیتے ہیں جو  پہلے ہی سے معاشی  طور پر مستحکم  ہیں۔ بینک  ہر گز ہر گز کسی غریب آدمی کو قرض نہیں دے گا خواہ وہ کتنا ہی  قابل  او ر ذہن   کیوں نہ ہو۔ سودی نظام  سے صرف سرمایہ کار حضرات ہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ بقیہ غریب لوگ جو تعداد میں امیروں سے زیادہ ہیں ہمیشہ مالی فائدوں سے محروم ہی رہتے ہیں ۔ اب لوگوں  کو یہ احساس ہونے لگا ہے کہ سودی نظام سے انسانیت کابھلا نہیں ہوسکتا ۔ چنانچہ  لوگ سودی نظام سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لئے  کوشش بھی کررہے ہیں  ان  لوگوں کو بھی  اس کا علم ہوگیا ہے کہ صرف اسلام کے پاس ہی اس کامتبادل موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں غیر  سودی نظام کی طلب میں اضافہ ہورہا ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ مسلم دنیا بھی اسلام کو ایک رول ماڈل کے طور پر پیش  کرنے میں غفلت  کا شکار رہی ہے۔ اب  ضرورت اس بات  کی ہے کہ لوگوں کو اسلام کے معاشی  تعلیمات سے واقف کرایا جائے ۔

جہاں  تک ہندوستان میں اسلامی بینک  کے امکانات کی بات  ہے تو بلا مبالغہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہندوستان میں اسلامی بینک کاری  کے تعلق  سےاس کے امکانات  کافی روشن ہیں۔ ہندوستان کی معیشت ایک ابھرتی ہوئی  معیشت  ہے اور ابھرتی ہوئی معیشت  میں نئے  منصوبے اور نظریات کو کافی اہمیت دی جاتی ہے۔ کیونکہ نئے  منصوبے اور جدید طریقہ کار کسی بھی ابھرتی  ہوئی معیشت  کو تیزی  سےابھارنے میں موثر رول ادا کرتے ہیں ۔ لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہندوستانی  معاشیات کچھ  تر دوکا شکار ہیں ۔ کچھ لوگوں کو یہ سمجھ میں  آگیا ہے کہ اسلامی بینکنگ  کے قیام سےمسلمانوں  کی معیشت  بہتر ہوجائے گی  جو انہیں منظور نہیں ہے۔ لیکن  وہ شاید  اس حقیقت  سے جی  چرارہے ہیں کہ یہ مسابقاتی دور ہے اور اس دور میں وہی لوگ کامیاب ہونگے جو  نئے طریقہ  کار اور جدید  منصوبوں کو اپنے کارو بار میں جگہ  دینگے ۔ اسلامی بینکنگ  تو ایک فطری طریقہ  کار پر مبنی بینک  کاری کا آلہ ہے جو جلد ہی  لوگوں کے سامنے افشا ہوا ہے ۔ اکیسویں  صدی کے اس معاشی دور میں  اسلامی بینکنگ  کونظر انداز کر کے آگے  نہیں بڑھا جاسکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی دنیا جو اسلام کی سخت مخالف  ہے لیکن آپ کو معاشی میدان  میں ممتاز رکھنے کے لئے اسلامی بینکنگ  کو اپنا رکھا ہے ۔ ہندوستان کا عالمی حریف چین  نے بھی اسلامی  بینکنگ  کو اپنے یہاں  جگہ دینی شروع  کردی ہے۔ اگر ہندوستان نے ا س پر توجہ نہیں دی  تو وہ معاشی دوڑ میں چین پر سبقت  حاصل نہیں کرسکے گا۔ اور دوسری بات  یہ ہے کہ ہندوستان ایک مکسڈ ( Mixed Economy ) اکانومی ہے لہٰذا یہاں  پر ہر طرح کی نظر  یہ بنکاری  کے قبولیت  کے امکانات ہیں۔

ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ غیر سودی اسلامی بینک میں سرمایہ  کاری کیسے کریں او رکہاں کرتے ہیں؟ ۔ ہم جانتے ہیں کہ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے ۔ اس میں زندگی کے ہر پہلو  سےمتعلق احکامات ہیں ۔ اسلام نے سرمایہ کاری  کے متعلق بھی کچھ  اصول وضع کئے ہیں ، جیسے مشارکتہ ، مضاربہ، اجار ۃ اور کفالہ  وغیرہ وغیرہ ۔ ان کی تفصیل  حدیث  اور فقہ کی کتابوں  میں موجود ہے۔ انہی  اصولوں و ضوابط کے تحت اسلامی بینک بہت سارے حلال مدت میں سرمایہ کاری  کرتی ہیں۔ جیسے ریئل اسٹیٹ ، آئل  مارکیٹ اور میٹل مارکیٹ  وغیرہ وغیرہ ۔ اور حاصل شدہ نفع کو اپنے شرکاء کے درمیان تقسیم کرتی او ر کچھ  اپنے بقا  کیلئے رکھتی ہیں ۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ اسلامی بینک نفع کیسے حاصل کرتی ہے ۔ ایک دو فیصد سروس چارج کیا ہے اسلامی بینک  اسے کیوں  لیتی  ہے کیا یہ سود نہیں ہے؟ اس کے جواب میں ہم سب سے پہلے یہ بات واضح ہوجانی چاہئے کہ اسلامی بینکنگ کا مقصد صرف نفع کمانا نہیں ہے بلکہ اس کا بنیادی مقصد ہے لوگوں  کو اسلامی طریقے سے تجارت کرنے میں آسانی پیدا کرنا تاکہ لوگ سودی کا روبار سے حتی الامکان  بچ سکیں۔ نفع ایک جزوی چیز ہے جو تجارت  کے نتیجہ  میں پیدا ہوتی ہے اور اس طرح سے جو  بھی نفع حاصل ہوتی ہے  ایک معاہدہ  کے تحت  اسے شرکاء میں تقسیم کر دیتی ہے ۔ رہی بات سروس چارج کی تو یہ بھی ایک معقول چیز ہے ۔ اسلامی بینک بحیثیت ایجنٹ جو خدمات پیش کرتی ہے اس پر لوگوں سے کچھ فیس  لیتی ہے اور یہ بالکل سود نہیں ہے۔

6 مارچ، 2013  بشکریہ : روز نامہ ہندوستان ایکسپریس ، نئی دہلی

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/prof,-irfan-shahid–پروفیسر-عرفان-شاہد/islamic-banking-in-india–challenges-and-scope–اسلامی-بینک—رکاوٹیں،-اندیشے-اور-امکانات/d/10722

EMAIL: shahid_irfan2002@yahoo.com
Contact +91 8080997775
+91 8655084787
 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s