Malthusian Theory of Population and Islam by Prof Irfan Shahid |نظریہ آبادی میں مالتھس کا اصول اسلام کا لائحہ عمل ۔ ایک تحقیقی جائزہ

 

 

  Image

نظریہ آبادی میں مالتھس کا اصول 

اسلام کا لائحہ عمل ۔ ایک تحقیقی جائزہ

پروفیسرعرفان شاہد ۔ (استاذ معاشیات وبزنیس اسٹڈیز) ممبئی

آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں انسانی آبادی کے متعلق بے بنیاد خوف پایا جاتا ہے۔ اس طرح کی ذہن سازی میں مغربی میڈیا کا بہت ہی کلیدی رول ہے۔ آج جگہ جگہ AIDS ایڈس کی روک تھام کے لیے کنڈوم کے اشتہار ملیں گے۔ حالانکہ یہ ایڈس کا علاج نہیں ہے۔ یہ تو آبادی کو کم کرنے کا ایک حربہ ہے۔ جسے بالخصوص مسلمانوں کو (Motivate) موٹی ویٹ کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

اس کی ایک خاص وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ آج مسلمانوں کی آبادی دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے اور روز بروز ان کی آبادی کی شرح میں تھوڑا بہت اضافہ ہی ہورہا ہے۔ ایک تخمینہ کے مطابق عالمی آبادی میں مسلمانوں کی شرح 28% کے قریب ہے۔ یعنی دنیا کے ہر تین انسانوں میں ایک انسان مسلمان ہے۔ اس حساب سے آبادی میں اضافے کی وجہ سے مغربی ممالک کافی بے چین ہیں۔ بالخصوص امریکہ اور یورپ (عیسائیوں اور یہودیوں) کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں۔ وہ یہ تصور کرتے ہیں کہ اگر مسلمانوں کی آبادی ہم لوگوں کی آبادی سے زیادہ بڑھ گئی تو یہ چیز ہمارے لیے بہت ہی خطرناک ثابت ہوگی۔ ان کے حساب سے ان کی سوچ بالکل درست ہے کیونکہ ماضی میں انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ غداریاں کی ہیں دھوکہ دہی چالبازیاں ان سرشت میں ہے۔ اب وہ ڈر رہے ہیں کہ اگر مسلمانوں کی آبادی ہماری آبادی سے زیادہ ہوگئی تو ہمیں دنیا سے نیست و نابود ہونا پڑے گا۔ کیونکہ تاریخ جدیدمیں اقتدار میں آنے کے بعد میں انہو ں نے دنیا میں انسانیت کے لیے کوئی تحسین آمیز کام نہیں کیا ہے۔ جو بھی کام انہوں نے کیا وہ سب کے سب انسانی تخریب کاری سے ہی متعلق رہا ہے۔ چاہے وہ عراق اور افغانستان کا جدید مسئلہ رہا ہو یا جاپان (ناگاساکی) پر ایٹم بم پھینکنے کا مسئلہ۔ اس طرح سے بے شمار درد کی داستاں ہیں جن کے موجد یہی رہے ہیں۔ کیوبا، لبنان، سوڈان اور فلسطین اسی داستان المناک کی کڑیاں ہیں۔انہوں نے انسانیت کو شرمسار کیا ہے لوگ بولنا تو چاہتے ہیں لیکن خوف سے کچھ بولنے کی ہمت جٹا نہیں پاتے ۔ ان ممالک کو امریکہ کی وجہ سے جو نقصان ہوا ہے اس کا اندازہ لگانا بہت مشکل نہیں ہے لیکن ان کا محاسبہ کون کرے۔ اسلام کی توسیع کو دیکھ کر اُن کے رونگٹے کھڑے ہوتے چلے جارہے ہیں کیوں کہ وہی ایک قوت ہے جس میں ظالم کے محاسبہ کی قوت ہے ۔ آبادی کی اس تحریک کو روکنے کے لیے بے شمار تدابیریں کی جارہی ہیں۔ ضبط و لادت اور آبادی کی تقصیر بھی اس کی ایک کڑی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بے شمار ادارے اپنی نظروں کو مسلم آبادی کی طرف مرکوز کررہے ہیں تاکہ وہ مسلمانوں کی آبادی پر قابو پاسکیں۔ حالانکہ اس سے کچھ ہونے والا نہیں ہے۔ مسلم قوم آبادی کی بنیاد پر کچھ نہیں کرسکتی۔ ہاں اگر کچھ ہوسکتا ہے تو جرأت اور اجتماعیت سے ہوسکتا ہے اور یہ چیزیں دن بہ دن اس قوم سے ناپید ہوتی چلی جارہی ہے۔

جہاں تک ہندوستان میں آبادی کے اضافے کی بات ہے تو یہ بالکل مفروضہ ہے۔ یہاں مسلمانوں کی آبادی کے اضافے کی شرح ہندوؤں کے مقابل میں کم ہے۔ لیکن کچھ شرپسند لوگ اس حقیقت کو چھپانا چاہتے ہیں۔جدید تحقیق سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ کثرت ازداوج (Polygamy )کا رواج غیر مسلموں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔
تاریخ کے بنیادی مطالعے سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ تحفیف آبادی (Population Cont.) کی پہلی تحریک انگلستان میں شروع ہوئی اور اس کے سربراہ ایک عیسائی انگریز تھے۔ انہیں دنیا (Thomas Robart Malthus) تھامس روبرٹ مالتھس کے نام سے جانتی ہے۔ مالتھس نے 1798ء ؁ میں انگلستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کا جائزہ لیتے ہوئے ایک کتاب لکھی۔ اس کتاب کا نام 
\”An Essay On Principal of population as it effects the future improvement of society\”
اس کتاب کی تعلیمات نے انیسویں صدی کے درمیان ایک تحریک پیداکردی۔ یہ تحریک بعض جگہوں پر کامیاب بھی ہوئی لیکن مجموعی طور سے ناکام رہی۔ اس تحریک کے تحت بہت سارے ادارے اور انجمنیں قائم کی گئیں تاکہ لوگوں کو ضبط ولادت (تقصیر آبادی) اور اس کے افادیت کے بارے میں روشناس کرایا جائے۔ ہماری سابقہ وزیراعظم محترمہ اندرا گاندھی تو اس پالیسی سے اس قدر متاثر ہوئیں کہ انہو ں نے اس کا نفاذ جبراً ہندوستان میں کر ڈالا۔ بعد میں یہی چیز کانگریس حکومت کے زوال کا سبب بنی۔ 
* مالتھس کا نظریہ آبادی
(i) غذائی اجناس انسانی بقاء کے لیے بہت ضروری ہے
(ii) مرد و عورت میں جنسی کھینچاؤ ایک فطری چیز ہے۔ اس کے نتیجے میں آبادی میں اضافہ مستحکم اور یقینی ہے
(iii) انسانی آبادی میں اضافہ جو میڈیکل انداز میں ہوتا ہے جیسے 2۔4۔8۔16 
(iv) اس کے بالمقابل غذائی اجناس کی پیداوار ارتھمیٹکل انداز میں ہوتی ہے۔ جیسے 1۔2۔3۔4۔5 وغیرہ وغیرہ
(v) ہر ملک کی آبادی بغیر کسی پابندی کے 25سال میں دوگنی ہوجاتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی ملک کی آبادی 1975ء ؁ میں پچاس لاکھ تھی تو اس کی آبادی 2000ء ؁ میں ایک کروڑ ہوجائے گی۔
یہ ہے مالتھس کا نظریہ آبادی جو کافی عرصے تک یورپ، امریکہ، اور دیگر ایسیائی اور افریقی ممالک میں زیر عمل رہا۔ اس نظریہ کی وجہ سے بے شمار خرابیاں بھی پیدا ہوئی ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں بھی بہت سارے لوگ اس تحریک کے مخالف ہوگئے۔ دریں اثناء بہت سارے ماہر معاشیات نے مالتھس کے اس نظریہ پر سخت تنقید بھی کی ہے۔ اس کی صاف جھلک (History of Economic Thought) معاشیات کے تاریخی کتابیں میں ملتی ہے۔
مالتھس کے اس نظریہ سے متاثر ہوکر بہت سارے لوگ عزل، فیملی پلاننگ اور کنٹراسیپٹو کو ترجیح دیتے ہیں۔ آج کل کچھ مصنوعی مسلم اسکالرس بھی اس نظریہ کی ترویج اور تصدیق کررہے ہیں۔ یہ حضرات غور نہیں کرتے کہ یہ تمام تدبیریں قتل کے مترادف ہیں۔ آخر لوگ معصوم جانوں کو مارنے سے پہلے اپنے حیوانی نفس ہی کو کیوں نہیں مار دیتے جس سے دونوں ہی سلسلہ ختم ہوجائے۔ بہت ساری NGO(غیر سرکاری تنظیمیں) انسانی حقوق (Human Rights) کی باتیں تو کرتی ہیں لیکن جب نامولود بچے کے حقوق کی بات آتی ہے تو بالکل خاموش ہوجاتی ہیں بلاشبہ نامولود معصوم (مادر شکم میں پلنے والے) بچے کا قتل کرنا ایک عظیم گناہ ہے۔ 
اسلام انسانی جانوں کا اس قدر احترام کرتا ہے کہ ناحق ایک فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن اور تفسیر قرطبی سورۃ المائدہ ۔آیت نمبر32 )۔ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ اسلام تقصیر آبادی یا خفیہ قتل کا حکم دے گا۔ آج کل بہت سارے مصنوعی مسلم اسکالرس ضبط ولادت (Birth Control) کو اسلام سے جوڑنے کی کوشش کررہے ہیں حالانکہ اسلامی شریعت اس چیز کی قطعی اجازت نہیں دیتی۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بہت ہی غضبناک انداز میں اس کے متعلق سوال کیا ہے۔ (واذالمودۃ سلت بِایِّ ذُنْبٍ قُتِلت) سورۃ التکویر آیت نمبر9 (ترجمہ: اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے سوال کیا جائے گا کہ کس گناہ کی وجہ سے وہ قتل کی گئی) 
یہ خطاب اس قدر غیظ و غضب سے لبریز ہے کہ اس مختصر سے مضمون میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ جو لوگ عربی زبان و ادب سے آشنا ہیں وہ بحسن و خوبی اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ یہاں پر کس قدر ناراض ہے۔ ناراضگی کی حد اس درجے تک پہنچ گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ ظالم سے سوال نہ کرکے مظلوم سے سوال کررہا ہے کہ تجھے کس جرم میں قتل کیا گیا ہے۔ 
اللہ تعالیٰ (قاتل اولاد) اولاد کے قتل کرنے والوں سے اس قدر نفرت کررہا ہے کہ وہ اس سے بات کرنا تک پسند نہیں کررہا ہے۔ بلاشبہ اس تعلق سے اللہ تعالیٰ کے دو صفات ہیں۔ ایک یہ کہ وہ خالق ہے (پیدا کرنے والا) دوسرا یہ کہ وہ (رب) پالنے والا ہے۔ یعنی (رب العالمین) دونوں جہان کا پالنے والا ہے۔ اور اس کے ساتھ رازق بھی ہے۔ چنانچہ مارنے اور زندہ کرنے کا حق صرف اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کو ہی ہے۔ انسان کون ہوتا ہے مارنے والا۔ یہ تو خود ایک مکھی بھی نہیں پیدا کرسکتا ہے (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تدبر القرآن سورۃ الحج آیت نمبر73) ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے قوانین اور حدود ہیں۔ ان حدود سے تجاوز کرنا کسی کے حق میں بہتر نہ ہوگا۔ کیا ہی خوب کہا ہے علامہ اقبال نے ؂
فطرت افراد سے اغماض بھی کرلیتی ہے
کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف
ابورشن (Abortion) ، کنٹراسیپٹو یا اور کوئی مانع حمل تدبیر جس سے قبل ولادت بچوں کو ہلاک کیا جائے اسلام کے نقطہ نظر سے جائز نہیں۔ اس کی ایک عمیق جھلک حدیث رسول میں ملتی ہے جس کا تعلق حضرت غامدیہؓ کی زندگی سے ہے۔
ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ حضرت غامدیہؓ کسی طریقے سے زنا کے ذریعہ محمول (Pregnant)ہوجاتی ہیں ۔ دریں اثناء آپ کو خیال آتا ہے کہ آپ سے بہت بڑا گناہ سرزد ہوگیا ہ۔ آپؓ پیارے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتی ہیں۔ اور آپؐ ﷺ سے طہارت کی درخواست کرتی ہیں (اپنے آپ کو سزا کے ذریعہ معاف کروانا چاہتی ہیں) اللہ کے رسولؐ ان کے حمل کو دیکھتے ہوئے واپس کردیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بچہ جننے کے بعد آؤ۔ چنانچہ وہ بچے کی ولادت کے بعدآتی ہیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ انہیںؓ یہ کہہ کر واپس کردیتے ہیں کہ جب بچہ دودھ پینا چھوڑ دے تب آیئے گا۔ اس طرح سے آپ تین مرتبہ اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ پھر اللہ کے رسول ﷺ نے آپ کو سنگسار کرنے کا حکم دیا۔ آپ اس حدیث سے اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اسلام نے انسانی جانوں کو کس قدر محترم قرار دیا ہے(کتاب الحدود ۔ بخاری)۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اللہ کے رسول حضرت غامدیہؓ کو رجم (پتھر مار کر ہلاک کرنا) کرنے میں تاخیر نہ کرتے۔
اس کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد واقعات پر اس طرح کے عمل کی مذمت کی ہے۔ چند آیات درج ذیل ہیں۔ (قد خَیرالذین قتلوا اولادہم سَفَہاً بعیر عِلْمٍ وَحَرّموا مارزقہم اللہ افتراءَ علی اللہِ) (واقعی خرابی میں پڑگئے وہ لوگ جنہوں نے اپنی اولاد کو محض براہ حماقت بلاکسی سند کے قتل کرڈالا اور جو چیزیں ان کو اللہ نے کھانے پینے کو دی تھیں ان کو حرام کرلیا محض اللہ پر افترا باندھنے کے طور پر ۔بے شک یہ لوگ گمراہی میں پڑ گئے اور کبھی راہ راست پر چلنے والے نہیں ہوئے ۔سورۃ الانعام : 140)
(ولا تقلوا اولادکم خشیۃ املاک نحن رزقہم و ایاکم ان قتلہم کان خطاً کبیرا) (اور مفلسی کے خوف سے اپنی اولاد کو نہ مار ڈالو ،ان کو اور تم کو ہم ہی روزی دیتے ہیں ۔یقیناًان کا قتل کرنا کبیرہ گناہ ہے۔سورۃ بنی اسرائیل : 31)
آج کل مارکیٹ میں بے شمار مصنوعی اسلامی اسکالرس چند مستشرقین کی تحریر کردہ کتاب کو پڑھ کریہ لکھ دیتے ہیں کہ اسلام میں فیملی پلاننگ اور ابورشن جائز ہے (کچھ لوگ کہتے ہیں کہ (نامولود) جنین میں جان نہیں ہوتی چنانچہ اسے مارا جاسکتا ہے۔ حالانکہ معاملہ اس کے برخلاف ہے۔ جنین میں بالکل جان ہوتی ہے۔ لیکن اس کے پاس قوت مدافعت نہیں ہوتی ہے۔ اگر قوت مدافعت ہوتی تو وہ اپنی بقا کے لیے ضرور بالضرور دفاع کرتا۔ پروفیسر کیتھ مور جو علم پیدائش کے بہت بڑے ماہر ہیں۔ انہو ں نے اپنی تحقیق میں یہ بات ثابت کیا ہے کہ جنین میں جان ہوتی ہے) ۔ کنٹراسیپٹو یا برتھ کنٹرول صرف اسی صورت میں جائز ہوسکتی ہے جب ماں کی زندگی خطرے میں ہو۔ 
آبادی اور خوراک: 
* مالتھس اور جدید ماہرین معاشیات کی آراء 
مالتھس اور جدید ماہرین معاشیات کا یہ دعویٰ ہے کہ آبادی اور غذائی اجناس (کھانے اور پینے کی اشیاء) میں یکساں اضافہ نہیں ہوتا۔ آبادی میں اضافے کا تناسب جو میڈیکل انداز میں ہوتا ہے مثلاً 2۔4۔8 اور غذائی اجناس میں پیداوار کا تناسب اور ارتھیمیٹکل انداز میں ہوتا ہے۔ لہٰذا آبادی کے زیادہ ہونے کی صورت میں ملک میں معاشی بحران پیدا ہوجائے گااور روزگار کے مواقع کم ہوجائیں گے۔ 
یہ ہے مالتھس اور جدید ماہرین معاشیات کا نظریہ آبادی اور خوراک جو بے بنیاد اور فرضی چیزوں پر منحصر ہے۔
جو چیزیں انسانی زندگی کے لیے بہت ضروری ہیں وہ ہوا ، پانی اور رات و دن ہیں۔ اگر یہ چیزیں انسان کو کچھ مخصوص وقت کے لیے نا ملے و انسان مر جائیں گے۔ لیکن (Food Grain) غذائی اجناس نہ ملنے کی صورت میں کچھ دنوں تک زندہ رہ سکتا ہے۔ ان اشد ضروری چیزوں میں سے تو ہوا بہت ہی ضروری چیز ہے اگر اس کے رسد میں ذرا برابر خلل واقع ہوجائے تو انسان موت کے دہانے پر پہنچ جائے گا۔ پانی بھی بہت قیمتی چیز ہے۔ انسان کے تخلیق ہی میں ۔ پانی کی آمیزش ہے (اسکا لطیف اشارہ قرآن مجید میں ملتا ہے) ہمارا یہ کرہ ارض جس پر ہم زندگی گزار رہے ہیں اس کا تین حصہ پانی پر منحصر ہے۔ پانی کے بغیر انسان دو تین دن سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا ہے۔ اگر انسان کیمیائی اجزا (Chemical reaction) سے پانی بنانا بھی چاہے تو وہ پانی اتنا مہنگا ہوجائے گا کہ اس کو روئے زمین کا بہت ہی امیر طبقہ ہی خرید کر پی سکے گا۔ اللہ تعالیٰ نے پانی کو بہت ہی وافر مقدار میں پیدا کیا تاکہ کسی انسان کی اس پر اجارہ داری قائم نہ ہوسکے۔
غذائی اجناس (Food grain) کا تعلق زراعت (کھیتی باڑی) سے ہے۔ جہاں تک زراعت کا تعلق ہے تو اس پیشے میں 50% کے قریب لوگ مصروف ہیں اور ملک کے 40% زمین میں ہی صرف زراعت کی جارہی ہے۔ اس کے باوجود بھی سالانہ پیداوار 257.44 ملین ٹن ہے۔ حالانکہ ہندوستان کی زرعی حالت پیداوار کے اعتبار سے بہتر نہیں ہے۔ اس کے برخلاف امریکہ، یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک جہاں پر زراعت پیشہ لوگوں کی تعداد 3% سے لے کر 7% کے قریب ہے پھر بھی یہ ممالک اس قدر زرعی پیداوار کرتے ہیں کہ انسان حیرت میں پڑجائے گا۔ اگر ہندوستان بھی اسی طرح سے پیداوار کرے اور مکمل زمین پر پیداوار کرے تو انشاء اللہ اتنا غلہ پیدا ہوجائے گا کہ ہندوستان کی مجموعی آبادی بغیر کام کیے ہوئے 3سال تک استعمال کرے تو بھی یہ غلہ ختم نہیں ہوگا۔ یہ حقیقت پروفیسر مالتھس کے اس نظریہ کی تردید کرتی ہے جس میں انہو ں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انسانی آبادی جیومیٹریکل انداز (Geometrical Way) میں بڑھتی ہے مثلاً (16-8-4-2) اور غذائی اجناس کی پیداوار کی شرح میں اضافے کا تناسب ارتھمیٹیکل انداز (Airthmetical Way) میں ہوتی ہے یعنی (4-3-2-1) یہ بات بالکل بے بنیاد اور غلط ہے۔ آج معاملہ اس کے برخلاف ہے۔ چنانچہ اس زاویے سے بھی کثرت آبادی لوگوں کو افلاس اور فقرو فاقہ پر مجبور نہیں کرتی ہے۔ چین اس کی زندہ جاوید مثال ہے۔ چین ایک کثیر آبادی والا ملک ہے۔ اس کی آبادی ہندوستان سے بھی زیادہ ہے پھر بھی چین کا شمار دنیا کے خوشحال ممالک میں ہوتا ہے۔ چین کے اندر جو صنعتی انقلاب آیا اس کی نظیر دنیا کے کسی اور معیشت میں نہیں ملتی۔ آج دنیا کے ہر بازار میں چائنا کا پروڈکٹ (دستیاب) موجود ہے۔ یہ صنعتی انقلاب بھی (Manpower) کثیر آبادی اور (Human Capital) فنی و صنعتی صلاحیت اور تعلیمی بیداری کی وجہ سے وجود میں آیا۔
غربت اور فقروفاقہ کی وجہ کچھ اور بھی ہوسکتی ہے۔ آبادی ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے۔ اس سے اہم مسئلہ تقسیم آمدنی کا ہے۔ دنیا کے اکثر و بیشتر ممالک اس مسئلے سے اپنی نظریں چرا رہے ہیں۔ آج پوری دنیا میں صحت، پانی اور دوا کے اوپر صرف 9 بلین ڈالرس خرچ ہورہا ہے۔ جب کہ اس کے برخلاف عالمی طور پر جنگ وجدال میں استعمال میں کیے جانے والے سامان پر 900 بلین ڈالرس خرچ ہورہا ہے (Times News Network Report)۔ حالانکہ اس سے تخریب کے علاوہ کچھ اور حاصل ہونے والا نہیں ہے۔ یہ اتنا بڑا تفاوت بہت آسانی سے نظر انداز کیا جارہا ہے جو افلاس اور فقروفاقہ کے وجوہات میں سے ایک بنیادی اور بڑی وجہ ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر (خشیت املاک) روزی کے ڈر سے بچوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے ( ملاحظہ ہو تفہیم القرآن تفسیر سورۃ انعام، آیت نمبر140 اور تفسیر سورۃ بنی اسرائیل آیت نمبر31)۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ رزق کی ذمہ داری میری ہے۔ چنانچہ اس کے متعلق کوئی فکر نہ کرے کہ اسے کوئی انسان رزق دے رہا ہے۔ انسان ایک ذریعہ ہوسکتا ہے لیکن رازق نہیں۔ انسان کی ذمہ داری یہیں تک ہے کہ وہ حلال طریقے اس کے لیے کوشش کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے (مزید تفصیل کے ملاحظہ ہو تفسیر قرطبی سورۃ جمعہ آیت نمبر.10)۔ ہزار سال قبلِ مسیح حضرت سلیمانؑ جو دنیا کے تمام بادشاہوں اور مالداروں کے لیے بادشاہ اعظم کی حیثیت رکھتے تھے نیز بیت المقدس انہیں کے شاہکار میں سے ہے۔
ایک مرتبہ آپ نے ارادہ کیا کہ آپؐ دنیا کے تمام مخلوقات کو کھانا کھلائیں اور اس کے لیے آپؐ نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی۔ اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اے پیغمبر آپ ہرگز ایسا نہ کرسکو گے پھر اس کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے کچھ کم دن کے لیے اجازت مانگی پھر بھی اللہ تعالیٰ نے انہیں منع فرمایا۔ اسی طرح سے درخواست کا یہ سلسلہ چلتا رہا اور آخر میں اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک وقت کے کھانا کھلانے کی ذمہ داری دی۔ چنانچہ حضرت سلیمانؑ نے جنوں کو حکم دیا کہ وہ سمندر کے کنارے دنیا کے تمام مخلوقات کے لیے کھانا تیار کریں۔ ہواؤں کو حکم دیا کہ وہ چلتی رہے تاکہ کھانے میں کوئی بدبو نہ پیدا ہوسکے۔ اس طرح سے جب ایک وقت کا کھانا تیار ہوگیا تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے کہا کہ ’’اے اللہ تعالیٰ اب تو اپنے مخلوقات کو کھانے کے لیے بھیج‘‘ بس اللہ تعالیٰ کا حکم کیا ہوا کہ ایک بڑی مچھلی سمندر سے نمودار ہوئی اور حضرت سلیمان علیہ السلام سے کھانا طلب کیا۔ مچھلی ایک دسترخوان سے دوسرے دسترخوان اور دوسرے دسترخوان سے تیسرے دسترخوان تک پھرتی رہی یہاں تک کہ سارا کھانا ختم ہوگیا۔
حضرت سلیمانؑ نے مچھلی کو دیکھا اور کہا کہ اے مچھلی تو نے میرا پورا کھانا کھالیا۔ مچھلی نے جواب دیا کہ اے پیغمبر الزماں آپ کیونکر اس طرح کی شکایت مجھ سے کررہے ہیں۔ میں نے تو صرف ایک ہی وقت کا کھانا کھایا جب کہ میرا پروردگار مجھے روزآنہ دونوں وقت کا کھانا کھلاتا ہے پھر بھی کسی سے نہیں کہتا اور آپ شکایت کررہے ہیں (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفسیر ابن کسیر اور دیگر اسرائیلی روایات)۔ اس کے بعد حضرت سلیمانؑ اپنے اس عمل پر نادم ہوئے اور کہا کہ اے پروردگار رازق تو ہی ہے۔ دنیاکا کوئی انسان رازق نہیں ہوسکتا۔ تو زمین اور پیڑ پودوں، سوراخوں میں رہنے والے باریک کیڑے مکوڑوں سے لے کر بڑے بڑے جانداروں کو کھانا کھلاتا ہے۔
اس واقع سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ رزق کا تعلق اللہ کی مشیّت سے ہے۔ انسان کو اس کے خوف سے اپنے بچوں کو ہلاک نہیں کرنا چاہیے۔ کیا ہی خوب ایک عربی شاعر نے کہا ہے کہ : 
لوکانت الازراق بحری علی الھجاء دھلکن اذ امن کان جھلھن البہائم
ترجمہ: اگر رزق کی تقسم صرف عقل و خرد پر ہوتی تو سارے کے سارے جانور جو عقل مسلم نہیں رکھتے مرجاتے۔
لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس ناپاک خیال کو اپنے ذہنوں سے نکال دیں کہ کثرت آبادی انسان کے لیے فقروفاقہ کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ بلاشبہ آبادی سے کچھ فوائد بھی ہیں جن کا ذکر آگے کیا جائے گا۔ فقروفاقہ اور بے روزگاری کا تعلق کرپشن اور رشوت خوری سے ہے۔ جب کسی ملک کی عدلیہ انصاف کے قوانین کو بھول جاتی ہے۔ اور جرائم کی روک تھام کرنے والے افرادخود کو کرپشن میں مبتلا کرلیتے ہیں تو ایسی صورت میں ملک کے معاشی حالات دن بہ دن خراب ہونے لگتے ہیں۔ 
سویت یونین کا حال ہمارے سامنے ہے۔ یہ بھی ایک کثیر الآباد ملک تھا۔ یہاں بھی معاشی خوشحالی تھی۔ لیکن مذہبی تعصبات ، کرپشن اور ظلم و بربریت کا دورشروع ہوا تو کچھ زیادہ دن نہیں گزار کہ سویت یونین (Soviet Union) تباہ و برباد ہوگیا اور اس کا نا دنیا کے نقشہ سے مٹ گیا ہے۔ آج بھی سویت یونین کی معیشت کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ ٹھیک یہی چیز آج آزاد ہندوستان میں ہورہا ہے۔ 
ہندوستان کو چاہیے کہ وہ اپنی سیاسی پالیسیوں کو تبدیل کرے، یہاں سے مذہبی تعصبات کو دور کرے اور ملک کی افرادی قوت کو مثبت کاموں میں لگائے۔ گزشتہ سال بالی ووڈ فلم فیسٹیول پر جو رقم خرچ کی گئی ہے اگر اس رقم کو کسی فلاحی اور سماجی کام پر خرچ کردیا گیا ہوتا تو اس سے ایک بہت بڑا راحت کا کام ہوجاتا۔بالفرض ہم یہ تسلیم کرلیتے ہیں کہ لوگوں کو تقصیر آبادی پر ابھارا جائے تو آبادی کم ہو جائے گی تو ایسا سوچنا ایک خواب کی طرح ہے ۔ اگر ہم گذشتہ پچاس سال کا جائزہ لیں اور یہ پتہ لگائیں کہ اس عرصہ میں نیم سرکاری اور سرکاری اداروں کافی جد وجہد کے باوجود اس کا خاطر خواہ فائدہ نہیں ملا ۔اگر ہم اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کا مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ گذشتہ دو دہائیوں میں ان اداروں نے جو رقم مانع حمل ذرائع کی اشتہار بازی پر جو رقم خرچ کی ہے اگر وہ رقم غریبوں کی تعلیم وتربیت پر خرچ کی گئی ہوتی تو آبادی کا نصف کو تعلیم سے آراستہ کیا جاسکتا تھا اور اس سے ان کا مسئلہ نصف رہ جاتا کیوں کہ زیادہ تر مسائل تعلیم کی کمی سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔بہترین معاشرہ اور تقصیر آبادی کیلئے عوام کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے ۔اگر تعلیم ، صحت اور روزگار کے متعلق حکومت صحیح طور پر فکر مند ہوجائے تو آبادی کا مسئلہ خود بخود ختم ہوجائے گا ۔ 
ہندوستان کو چاہیے کہ وہ چین (China) کی طرح (Manpower) افرادی قوت پر اپنی نظر کو مرکوز کرے اور (Human Capital) افرادی صلاحیت کو پروان چڑھائے تاکہ لوگوں کے اندر نئی اور تکنیکی صلاحیت پیدا ہوسکے۔ دوسری طرف مقننہ اور عدلیہ کو بہتر بنائے تاکہ کرپشن پر قابو پایا جاسکے۔ اگر مقننہ و عدلیہ کچھ کمزور ہوں تو قرآن و حدیث سے کچھ قوانین اخذ کرلیں۔ جیسا کہ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے شروع میں کیا تھا۔ بلاشبہ یہ چیزیں ہندوستان کو مستقبل قریب ہی میں سپر پاور (Supper Power) کے صف میں کھڑا کردے گی۔
(1) کثرت اولاد کثرت آبادی کی ضامن ہے۔
(2) کثرت اولاد سے آمدنی بڑھتی ہے اور والدین کو بڑھاپے میں سہارا مل جاتا ہے۔
مغربی تہذیب اس کا مخالف ہے۔ اسی وجہ سے ان کے یہاں معمر والدین کو الگ تھلگ اولڈ ہاؤس (Old House) میں رہنا پڑتا ہے(Western Heritage)۔ کیونکہ مغربی دنیا کے والدین شروع ہی سے شادی کے بعد ہم دو ہمارے دو کانعرہ لگاتے ہیں وہ زیادہ بچے اور شور و شرابا کو پسند نہیں کرتے۔ چنانچہ یہی تعلیمات بچوں کے ذہن میں پیوست ہوجاتی ہے اور بالآخر جب والدین بوڑھے ہوجاتے ہیں اور گھر میں شور مچاتے ہیں تو یہی بچے انہیں اولڈ ہاؤس (Old House) میں چھوڑ آتے ہیں اور والدین یہیں پر سسک سسک کر مر جاتے ہیں۔ یہ ہے ہم دو ہمارے دو کا فائدہ۔
(3) دنیا کی بہت ساری مشہور شخصیتیں اپنے والدین کے تیسرے اور چوتھے نمبر کے بچے رہے ہیں۔ اگر یہ والدین ہم دو ہمارے دو کا عقیدہ رکھتے تو شاید ہمیں ان گراں قدر عظیم سائنسدانوں کے خدمات سے فائدہ اٹھانے کا موقع نہ ملتا۔ بلاشبہ ایسے لوگوں نے دنیا میں بہت ہی مثبت کام کیے ہیں۔ چارلس بیبسچ موجد کمپیوٹر، ایڈلیسن موجد روشنی اور جیم سواڈ موجد ٹرین وغیرہ اپنے والدین کے تیسرے اور چوتھے نمبر کے بچے رہے ہیں۔ 
(4) آبادی سے پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔ جتنے ہاتھ اتنے کام۔ چین اس کی زندہ مثال ہے۔ 
(5) پروفیسر خورشید احمد صاحب کے بقول اسلام انسان کو بے کاری اور لہو و لعب سے روکتا ہے نیز محنت (Labour) اور تجارت (Trade) پر زور دیتا ہے۔ اس کے برخلاف موجودہ زمانے کے مفکرین روپئے کی ہیرا پھیری پر زیادہ زور دیتے ہیں اور سود کو پروان چڑھاتے ہیں۔ یہ جملہ محرکات معیشت کی پیداوار کو کم کردیتی ہے اور بالآخر معیشت فقروفاقہ کی شکار ہوجاتی ہے۔
معیشت میں پیداوار کی کمی دراصل کرپشن ہے لیکن نادان لوگ اس کی وجہ آبادی کو تصور کرتے ہیں۔ 
(6) گاٹ (General Agreement On Tariff and Trade) GAAT کے آخری کانفرنس میں پروفیسر ڈنکل نے ایشیائی ممالک میں ذراعت کی صنعت کو مفلوج کرنے کے لیے بے انتہا کوشش کی تاکہ ایشیائی ممالک کے لوگ جلد از جلد پیالا لے کر امریکی اور یوروپی ممالک کے سامنے بھیک مانگنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ ہائی برڈ اور ڈنکل تجویزاسی منصوبے کا ایک نمونہ ہے۔ (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو جدید WTO رپورٹ برائے زراعت اور تجارت اور Death of International Economics)
(7) فقرو فاقہ غذائی اجناس (Food Grains) کی صحیح تقسیم نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔ دوسری وجہ حقوق کی پامالی (Distruction of Entitlement) ہے جس کا اشارہ نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات جناب امرتیہ سین نے اپنی شاہکار کتاب \”Poverty and famine\” میں کیا ہے۔ اسی وجہ سے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے انسانی حقوق کی بحالی کی جگہ جگہ تلقین کی ہے تاکہ لوگ ایک دوسرے کے حقوق کو سمجھیں اور کسی بھی قسم کے بحران سے محفوظ رہیں۔

Contact No 91 8080997775

Email: shahid_irfan2002@yahoo.com

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s